23534- عن الشعبي قال: "خرج عمر يستسقي فلم يزد على الاستغفار حتى رجع فقيل له: ما رأيناك استسقيت؟ " قال: "لقد طلبت المطر بمجاديح السماء التي يستنزل بها المطر،" ثم قرأ: {وَيَا قَوْمِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَاراً} . (عب ص ش وابن سعد وأبو عبيد في الغريب وابن المنذر وابن أبي حاتم وأبو الشيخ وجعفر الفريابي في الذكر، ق) .
23534 ۔۔۔ شعبی روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) استسقاء (طلب بارش) کے لیے باہر تشریف لائے آپ (رض) نے دعا و استغفار سے زیادہ کچھ نہ کیا آپ (رض) سے کسی نے کہا : ہم نے تو آپ کو بارش طلب کرتے نہیں دیکھا ؟ آپ (رض) نے فرمایا میں نے آسمان کے نچھتروں سے بارش طلب کی ہے جن سے بارش کا نزول کیا جاتا ہے پھر آپ (رض) نے یہ آیت تلاوت کی : ” یا قوم استغفروا ربکم ثم توبوا الیہ یرسل السماء علیکم مدارا “۔ یعنی اے میری قوم اپنے رب سے مغفرت طلب کرو اور پھر اس کے حضور توبہ کرو وہ تمہارے اوپر آسمان سے موسلا دھار مینہ برسائے گا ۔ (رواہ عبدالرزاق و سعید بن المنصور وابن ابی شیبۃ وابن سعد وابوعبیدہ فی الغریب وابن المنذر وابن ابی حاتم ابوالشیخ وجعفر الفریابی فی الذکر والبیہقی) استسقاء کا معنی : ستسقاء کا لغوی معنی ” پانی طلب کرنا “ ہے اصطلاح میں صلوۃ استسقاء اس نماز کو کہا جاتا ہے جو خشک سالی اور قحط کے موقع پر مخصوص طریقہ سے پڑھی جائے تاکہ اللہ تعالیٰ باران رحمت نازل فرمائے ۔