23536- عن عائشة أن أعرابيا جاء وعمر بن الخطاب يخطب الناس يوم الجمعة فقال: يا أمير المؤمنين قحط السحاب وجاعت الأعراب وخدعت الضباب، فقال عمر: بل أمطر السحاب إن شاء الله تعالى وشبعت الأعراب وأغطت بأذنابها الضباب، ما أحب أن لي مائة إبل كلها سود الحدقة قحط الأعراب من الضباب، ثم التفت إلى أصحابه فقال: ما بقي من أنواء الربيع؟ فقال العباس: بقيت العواء يا أمير المؤمنين فرفع عمر يديه ودعا المسلمون فلم يزل حتى سقاهم الله تعالى. (ابن جرير والمحاملي) .
23536 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) لوگوں کو جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے کہ اتنے میں ایک دیہاتی آگیا اور کہنے لگا : یا امیر المؤمینن ! بادل رک گئے ہیں دیہاتی بھوک کی بھینٹ چڑھے ہوئے ہیں حتی کہ گوؤیں بھی دھوکا کرگئی ہیں سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا بلکہ بادلہ مینہ برسائے گا انشاء اللہ تعالیٰ دیہاتی شکم سیر ہوں گے اور گوؤیں بھی دموں سے پکڑی جائیں گی مجھے پسند نہیں کہ میرے پاس تیز رفتار سوار اونٹ ہوں اور دیہاتی گوؤں سے محروم ہوجائیں پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : موسم بہار کا عطیہ کتنا باقی رہا حضرت عباس (رض) نے جواب دیا کچھ تھوڑا بہت شور باقی رہ گیا ہے ، چنانچہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے ہاتھ اوپر اٹھائے اور دعا کرنے لگے مسلمانوں نے بھی دعا کی ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ اللہ تعالیٰ نے موسلا دھار بارش نازل فرمائی ۔ (رواہ ابن جریر والحاملی)