23708- أعطيت أمتي في شهر رمضان خمس خصال لم تعطه أمة قبلهم: خلوف فم الصائم أطيب عند الله من ريح المسك، وتستغفر لهم الملائكة حتى يفطروا ويزين الله كل يوم جنته، ثم يقول: يوشك عبادي الصالحون أن يلقوا عنهم المؤنة والأذى، ويصيرون إليك، ويصفد فيه مردة الشياطين ولا يخلصون فيه إلى ما كانوا يخلصون في غيره، ويغفر لهم في آخر ليلة، قيل: يا رسول الله أهي ليلة القدر؟ قال: "لا ولكن العامل إنما يوفى أجره إذا قضى عمله". (حم ومحمد بن نصر، هب عن أبي هريرة) .
23708 ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ میری امت کو رمضان شریف کے بارے میں بارے میں پانچ چیزیں مخصوص طور پر عطا کی گئی ہیں جو پہلی امتوں کو نہیں ملی ہیں۔ ا :۔۔۔ یہ کہ ان کے منہ کی بو اللہ تبارک وتعالیٰ کے نزدیک مشک سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ 2:۔۔۔ یہ کہ ان کے لیے فرتے استغفار کرتے رہتے ہیں اور افطار کے وقت تک کرتے رہتے ہیں۔ 3:۔۔۔ جنت ہر روز ان کے لیے آراستہ کی جاتی ہے پھر اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں کہ قریب ہے کہ میرے نیک بندے (دنیا کی ) مشقتیں اور اذیتیں اپنے اوپر سے پھینک کر تیری طرف آئیں ۔ 4:۔۔۔ اس میں سرکش شیاطین قید کردیئے جاتے ہیں کہ وہ رمضان میں ان برائیوں کی طرف نہیں پہنچ سکتے جن کی طرف غیر رمضان میں پہنچ سکتے ہیں۔ 5:۔۔۔ رمضان کی آخری رات میں روزہ داروں کے لیے مغفرت کی جاتی ہے صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا : حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مغٖفرت کی یہ رات شب قدر ہے ؟ فرمایا : نہیں بلکہ طریقہ یہ ہے کہ جب مزدور کام ختم کرلیتا ہے تو اسے مزدوری دے دے جاتی ہے مرواہ احمد بن حنبل ومحمد بن نصر والبیھقی فی شعب الایمان عن ابوہریرہ (رض))