23709- أعطيت أمتي في شهر رمضان خمسا لم يعطهن نبي قبلي: أما واحدة فإنه إذا كان أول ليلة من شهر رمضان نظر الله إليهم ومن نظر الله إليه لم يعذبه أبدا، وأما الثانية: فإن خلوف أفواههم حين يمسون أطيب عند الله من ريح المسك، وأما الثالثة: فإن الملائكة تستغفر لهم في كل يوم وليلة، وأما الرابعة: فإن الله تعالى يأمر جنته فيقول لها: استعدي وتزيني لعبادي أوشك أن يستريحوا من تعب الدنيا إلى داري وكرامتي، وأما الخامسة: فإنه إذا كان آخر ليلة غفر الله لهم جميعا، فقال رجل من القوم: أهي ليلة القدر؟ قال: "لا ألم تر إلى العمال يعملون فإذا فرغوا من أعمالهم وفوا أجورهم". (هب عن جابر)
23709 ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ میری امت کو رمضان کے متعلق پانچ مخصوص چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں ملی ہیں : 1 ۔۔۔ یہ کہ جب رمضان شریف کی پہلی رات ہوتی ہے اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے روزہ دار بندوں کی طرف نظر رحمت سے دیکھتے ہیں اور جس کی طرف اللہ تبارک وتعالیٰ نظر رحمت سے دیکھ لیتے ہیں اسے کبھی عذاب نہیں دیتے ۔ 2 ۔۔۔ یہ کہ روزہ داروں کے منہ کی بو اللہ تبارک وتعالیٰ کے نزدیک مشک سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے۔ 3 ۔۔۔ یہ کہ روزہ داروں کے لیے فرشتے ہر دن و رات استغفار کرتے رہتے ہیں۔ 4 ۔۔۔ یہ کہ اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی جنت کو حکم دیتے ہیں کہ تیار رہ اور آراستہ ہوجا قریب ہے کہ میرے نیک بندے دنیا کی تھکاوٹوں سے آکر تجھ میں آرام کریں تو میرا عزت والا گھر ہے۔ 5ـ۔۔۔ کہ جب رمضان شریف کی آخر رات ہوتی ہے حق تعالیٰ شانہ سب کی مغفرت کردیتے ہیں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین میں سے ایک آدمی نے عرض کیا : یہ مغفرت والی رات شب قدر ہے ؟ فرمایا نہیں کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ مزدور اپنے کاموں میں مشغول رہتے ہیں اور جب اپنے کاموں سے فارغ ہوجاتے ہیں انھیں اجرت مل جاتی ہے۔ (رواہ شعب الایمان للبیہقی عن جابر (رض)) کلام : ۔۔۔ یہ حدیث ہیثمی نے مجمع الزوائد میں (1403) ذکر کی ہے اور لکھا ہے کہ یہ حدیث احمد وبزار نے بھی روایت کی ہے اور اس میں ہشام بن زیاد ابو مقدام راوی ضعیف ہے۔