24328- عن زيد بن وهب قال: "بينما نحن جلوس في مسجد المدينة في رمضان والسماء متغيمة رأينا أن الشمس قد غابت وإنا قد أمسينا، فشرب عمر وشربنا فلم نلبث أن ذهب السحاب وبدت الشمس فجعل بعضنا يقول لبعض: نقضي يومنا هذا، فقال عمر: والله ما نقضيه ولا تجانفنا 1 لإثم. "أبو عبيد في الغريب ق".
24328 ۔۔۔ زید بن وھب کہتے ہیں : ایک مرتبہ رمضان میں ہم لوگ مدینہ منورہ کی مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے آسمان ابر آلود تھا ہم سمجھے سورج غروب ہوچکا ہے اور شام ہوچکی ہے چنانچہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے پانی پی لیا اور ہم نے بھی پانی پیا ابھی تھوڑی دیر گزری تھی کہ بادل چھٹ گئے اور سورج ظاہر ہوگیا ۔ ہم ایک دوسرے سے کہنے لگے : ہم اس روزہ کی قضاء کریں گے، سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا : بخدا ! ہم اس روزہ کی قضاء نہیں کریں گے اور نہ ہی ہم نے کسی گناہ کا ارتکاب کیا ہے۔ (رواہ ابوعبید فی الغریب والبیہقی)