hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 24329

.

كنز العمال

24329
Kanz al-Ummal
24329- عن سعيد بن المسيب قال: "خرج عمر بن الخطاب على أصحابه فقال: أفتوني في شيء صنعته اليوم فقال: ما هو يا أمير المؤمنين؟ قال: مرت بي جارية فأعجبتني فوقعت عليها وأنا صائم، فعظم عليه القوم وعلي ساكت فقال: ما تقول يا ابن أبي طالب؟ قال: جئت حلالا ويوم مكان يوم، فقال: أنت خيرهم فتوى". "ابن سعد".
24329 ۔۔۔ سعید بن مسیب (رح) کہتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) اپنے ساتھیوں کے پاس تشریف لائے اور کہنے لگے : مجھے ایک چیز کے متعلق فتوی دو جو میں نے آج کردی ہے لوگوں نے کہا : اے امیر المؤمنین وہ کیا ہے ؟ فرمایا : میرے پاس سے (میری) ایک باندی گزری جو میرے دلکو بھا گئی میں نے اس کے ساتھ ہمبستری کرلی حالانکہ میں روزہ میں بھی تھا ، چنانچہ لوگ ان پر بڑی بڑی باتیں کرنے لگے جب کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) خاموش تھے ۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا : اے ابن ابی طالب ! تم کیا کہتے ہو ؟ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا : آپ سے حلال کام سرزد ہوا ہے ایک دن کی جگہ دوسرا دن سہی سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا : تم فتوی کے اعتبار سے سب سے بہتر ہو ۔ مرواہ ابن سعد)