24504- عن وهب بن كيسان قال: "اجتمع عيدان على عهد ابن الزبير فأخر الخروج حتى تعالى النهار، ثم خرج فخطب فأطال، ثم نزل فصلى ركعتين ولم يصل للناس الجمعة، فعاب ذلك عليه ناس فذكر ذلك لابن عباس، فقال: أصاب السنة، فذكروا ذلك لابن الزبير فقال: رأيت عمر بن الخطاب إذا اجتمع على عهده عيدان صنع هكذا". "مسدد والمروزي في العيدين: وصحح".
24504 ۔۔۔ وھب بن کیسان کہتے ہیں : حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) کے دور میں دو دعیدین (عید اور جمعہ) جمع ہوگئیں چنانچہ آپ (رض) تاخیر سے گھر سے باہر تشریف لائے حتی کہ سورج بلند ہوچکا تھا پھر آپ (رض) نے طویل خطبہ دیا پھر منبر سے نیچے اترے اور دو رکعت نماز پڑھی جب کہ لوگوں کے لیے نماز جمعہ نہ پڑھی چنانچہ لوگوں نے اس کو برا سمجھا اور باتیں کرنے لگے حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) سے اس کا تذکرہ کیا گیا انھوں نے کہا : ابن زبیر (رض) نے یہ عمل سنت کے مطابق کیا ہے پھر لوگوں نے ابن زبیر (رض) سے اس کا تذکرہ کیا انھوں نے کہا : میں نے حضرت عمر (رض) کو دیکھا ہے کہ جب اس طرح دو عیدیں جمع ہوجاتی تھیں آپ (رض) بھی اسی طرح کرتے تھے ۔ مرواہ مسدد المروزی فی العیدین وصحح)