hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 24611

.

كنز العمال

24611
Kanz al-Ummal
24611- "مسند عمر رضي الله عنه" عن ابن الحوتكية قال: "أتي عمر بن الخطاب بطعام فدعا إليه رجلا فقال: إني صائم قال: وأي الصيام تصوم لولا كراهية أن أزيد أو أنقص لحدثتكم بحديث النبي صلى الله عليه وسلم حين جاءه الأعرابي بالأرنب، ولكن أرسلوا إلى عمار، فلما جاء عمار قال: أشهدت أنت رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم جاء الأعرابي؟ قال: نعم جاء بها الأعرابي وقد نظفها وصنعها يهديها لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: كلوا، فقال رجل من القوم: يا رسول الله إني رأيتها تدمأ فأكل القوم ولم يأكل الأعرابي، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: ألا تأكل؟ فقال: إني صائم، قال: وأي الصيام تصوم؟ قال: أول الشهر وآخره، قال: إن كنت صائما فصم الليالي البيض: الثلاث عشرة، والأربع عشرة، والخمس عشرة". "قط، ط، ش، حم والحارث وابن جرير، ع، ق، ش"
24611 ۔۔۔ ” مسند عمر “ ابن جوتی کہ کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کے پاس کھانا لایا گیا ، آپ (رض) نے ایک آدمی کو کھانے کی دعوت دی وہ بولا ، مجھے روزہ ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے کونسا روزہ رکھا ہوا ہے ؟ اگر می کمی زیادتی کو ناپسند نہ کرتا تو میں تمہیں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک حدیث سناتا ، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک اعرابی خرگوش لے کر آیا تھا لیکن آپ (رض) نے حضرت عمار (رض) کے پاس پیغام بھیجا ، چنانچہ جب حضرت عمار (رض) تشریف لائے تو سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا : کیا تم اس دن حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر تھے جس دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک اعرابی آیا تھا :؟ جواب دیا جی ہاں ! اعرابی خرگوش لایا تھا اور صاف ستھرا کرکے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدیہ پیش کیا تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں سے فرمایا : کھاؤ ایک شخص بولا : یا رسول اللہ میں اسے خون آلود دیکھ رہا ہوں چنانچہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے خرگوش کھالیا لیکن وہ اعرابی نے نہ کھایا : حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم کیوں نہیں کھاتے ہو ؟ عرض کیا : میں روزہ میں ہوں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم کونسا روزہ رکھتے ہو جواب دیا : ہر مہینہ کے شروع اور آخر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر تم روزے رکھنا بھی چاہتے ہو تو ایام بیض یعنی 13 ، 14، 15، تاریخوں کے روزے رکھو۔ (رواہ الدارقطنی والطبرانی وابن ابی شیبۃ ، واحمد بن حنبل والحارث وابن جریر وابو یعلی والحاکم والبیہقی) کلام : ۔۔۔ اس حدیث کی سنت میں ایک راوی عبدالرحمن بن عبداللہ مسعودی ہیں انھیں اختلاط ہوجاتا تھا دیکھئے مجمع الزوائد 1953 ۔