25682-عن عياض الأشعري أن أبا موسى وفد إلى عمر بن الخطاب ومعه كاتب نصراني فانتهره عمر وهم به قال: لا تكرموهم إذ أهانهم الله ولا تدنوهم إذ أقصاهم الله تعالى، ولا تأتمنوهم إذ خونهم الله عز وجل وقرأ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ} الآية. "ابن أبي حاتم، ق".
25682 ۔۔۔ عیاض اشعری کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) حضرت عمر بن خطاب (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے ابو موسیٰ (رض) کے ساتھ ایک نصرانی کاتب (منشی) بھی تھا چنانچہ عمر (رض) نے ابو موسیٰ (رض) کو ڈانٹا اور اچھی طرح سے ان کی خبر لی فرمایا : جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان (نصرانیوں) کی اہانت کی ہے تم انھیں عزت مت دو جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے انھیں دور کردیا ہے انھیں اپنے قریب مت کرو ۔ جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے انھیں خائن قرار دیا ہے تم ان پر اعتماد و بھروسہ مت کے کرو ۔ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت کی : (یا ایھا الذین امنوا لا تتخذو الیھود والنصاری اولیاء ) اے ایمان والو : یہودیوں اور نصرانیوں کو اپنے دوست مت بناؤ (رواہ ابن ابی حاتم والبھیقی )