25683- عن سليمان بن عطاء الجزري عن مسلمة بن عبد الله الجهني عن عمه أبي مشجعة قال: "عدنا مع عثمان بن عفان مريضا فقال له عثمان: قل لا إله إلا الله، فقالها، فقال: والذي نفسي بيده لقد رمى بها خطاياه فحطمها حطما فقلت له: أو شيء تقوله أو شيء سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقال: بل سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقلنا: يا رسول الله هذا هي للمريض فكيف هي للصحيح؟ قال: "هي للصحيح أعظم وأعظم". "ابن أبي الدنيا في ذكر الموت، حل؛ سليمان بن عطاء الجزري قال في المغني: متهم بالوضع واه".
25683 ۔۔۔ سلیمان بن عطاء جزری مسلمہ بن عبدللہ جہنی اپنے چچا ابو مشجعہ سے روایت نقل کرتے ہیں ک ہم حضرت عثمان بن عفان (رض) کے ساتھ ایک مریض کی عیادت کے لیے گئے عثمان (رض) نے مریض سے کہا :” لا الہ الا اللہ “ کہو ۔ مریض نے کلمہ طیبہ پڑھا عثمان (رض) نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اس کلمہ کی وجہ سے اس کی خطائیں بالکل ختم ہوچکی ہیں۔ میں نے عثمان (رض) سے عرض کیا : آپ نے یہ بات اپنی طرف سے کردی ہے یا اس کے متعلق نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کچھ سن رکھا ہے ؟ عثمان (رض) نے فرمایا : بلکہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سن رکھا ہے۔ ہم نے عرض کیا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ انعام تو مریضوں کے لیے ہے تندرست کے لیے کیا انعام ہے ؟ فامایا کہ تندرست کے لیے بہت عظیم اجر وثواب ہے۔ (رواہ ابن ابی الدنیا فی ذکر الموت وابو نعیم فی الحلیۃ سلیمان بن عطاء الجزاری قال فی المغنی متھم بالوضع واہ )