25777-"مسند سالم بن عبيد الأشجعي" عن هلال بن يساف قال: كنت مع سالم بن عبيد في سفر فعطس رجل من القوم فقال: السلام عليكم، فقال سالم بن عبيد: عليك وعلى أمك، ثم قال بعد: لعلك وجدت مما قلت لك؟ قال: أجل لوددت أنك لم تذكر أمي بخير ولا شر قال: إنما قلت لك كما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنا بينا نحن عند رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ عطس رجل فقال: السلام عليكم، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "عليك وعلى أمك، ثم قال: إذا عطس أحدكم فليقل: الحمد لله رب العالمين أو الحمد لله على كل حال وليقل من عنده: يرحمك الله، وليرد عليهم يغفر الله لنا ولكم". "ط، حم د، ت ن وابن جرير وابن السني، طب ك هب ض".
25777 ۔۔۔ ” مسند سالم بن عبید اشجعی (رض) “ ہلال (رض) بن یساف روایت کی ہے کہ میں سالم بن عبید کے ساتھ ایک سفر میں تھا لوگوں میں سے ایک شخص نے چھینک ماری اور کہا : ” السلام علیکم “ ، سالم بن عبید نے کہا : ” علیک وعلی امک “ پھر کہا : شاید تم نے میری کہی بات کو کچھ واہی سمجھا ہے اس شخص نے کہا : ” جی ہاں میں چاہتا ہوں کہ تم نے میری ماں کا خیر وشر میں ذکر نہ کیا ہوتا سالم بن عبید نے کہا : میں نے تم سے وہی بات کہی ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمائی تھی ، چنانچہ ایک مرتبہ ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اچانک ایک شخص نے چھینک ماری اور کہا : ” السلام علیکم “ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” علیک وعلی امک “ پھر فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص چھینک مارے وہ کہے : ” الحمد للہ رب العالمین “۔ یا کہے : ” الحمد للہ علی کل حال “ ۔ اور اس کے پاس جو لوگ کہوں وہ کہیں ” یرحمک اللہ “ اور چھینکنے والا جواب میں کہے ” یغفر اللہ لنا ولکم “۔ (رواہ ابو داؤد الطیالسی واحمد بن حنبل والترمذی وابن جریر وابن اسنی والطبرانی والحاکم والبیہقی فی شعب الایمان والضیاء)