25778- عن محمد بن عبيد الله بن أبي رافع عن أبيه عن جده أبي رافع قال: "خرجت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم من بيته وبيته يومئذ المسجد حتى أتينا البقيع فعطس رسول الله صلى الله عليه وسلم فمكث طويلا، فقلت له: بأبي وأمي قلت شيئا لم أفهمه؟ فقال: "نعم أتاني من ربي أو أخبرني جبريل قال: إذا عطست فقل: الحمد لله ككرمه والحمد لله كعز جلاله قال: فإن الرب تبارك وتعالى يقول: صدق عبدي صدق عبدي مغفورا له". "ابن جرير".
25778 ۔۔۔ محمد بن عبید اللہ بن ابی رافع عن ابیہ عن جدہ ابی رافع (رض) کی سند سے حدیث مروی ہے ابو رافع کہتے ہیں ! میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ان کے گھر سے نکلا ، ان دنوں آپ کا گھر مسجد ہی تھی ، ہم بقیع میں آئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چھینک ماری آپ کافی دیر رکے رہے میں نے عرض کیا : میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ، آپ نے کوئی بات کہی ہے جو میں نہیں سمجھ سکا ، فرمایا ! جی ہاں : میرے پاس جبرائیل امین (علیہ السلام) آئے اور مجھے خبر دی ہے کہ جب تمہیں چھینک آئے تو کہو : ”’ الحمد للہ ککرمہ والحمد للہ کعز جلالہ “۔ فرمایا کہ : رب تبارک وتعالیٰ کہتا ہے میرے بندے نے سچ کہا میرے بندے نے سچ کہا اس کی بخشش ہوچکی ، (رواہ ٍالبیہقی فی شعب الایمان)