25883 إعلم يا براء أن المرء إذا فعل ذلك بأخيه لوجه الله لا يريد بذلك جزاء ولا شكورا بعث الله إلى منزله عشرة من الملائكة يسبحون الله ويهللونه ويكبرونه ويستغفرونه له حولا كاملا ، فإذا كان الحول كتب له ذلك مثل عبادة أولئك الملائكة ، وحق على الله أن يطعمه من طيبات الجنة في جنة الخلد وملك لا يبيد.
(حل عن أنس) ،
أن أبي بن كعب لقي البراء بن عازب فقال : يا أخي ما تشتهي ؟ فقال : سويقا وتمرا ، فأطمعه حتى شبع ، فذكر البراء ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم ، قال : فذكره.
25883 ۔۔۔ جان لو اے براء ! آدمی جب اپنے بھائی کے ساتھ محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے ایسا معاملہ کرتا ہے اس سے وہ نہ کسی بدلے کا خواستگار ہوتا ہے اور نہ کسی قسم کی بجا آوری شکر کا طالب ہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کے گھر تک دس فرشتے بھیج دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی تسبیح تہلیل اور تکبیر کرتے رہتے ہیں اور مالک مکان کے لے پورا سال استغفار کرتے رہتے ہیں جب سال پورا ہوجاتا ہے اس کے لیے ان فرشتوں جیسی عبادت لکھ دی جاتی ہے ، اللہ تعالیٰ کا حق ہے کہ اسے جنت خلد کے طیبات میں عطا فرمائے اور ایسی بادشاہت سے عطا فرمائے جو نہ ختم ہونے والی ہے۔ (رواہ ابو نعیم فی الحلیۃ ، عن انس (رض)) حضرت ابی بن کعب (رض) کی حضرت براء بن عازب سے ملاقات ہوئی کہا : اے میرے بھائی آپ کسی چیز کی خواہش رکھتے ہیں ؟ کہا : میں ستو اور کھجوریں کھانا چاہتا ہوں چنانچہ انھیں پیٹ بھر کر کھلانے پر حضرت براء (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا تذکرہ کیا اس پر یہ حدیث ارشاد فرمائی ۔