26837- "أيضا" عن عبد الله بن محمد بن عقيل بن أبي طالب قال: "طدخلت على الربيع بنت معوذ بن عفراء فقلت: جئت أسألك عن وضوء رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلنا ويزورنا وكان يتوضأ في هذا الإناء أو في مثل هذا الإناء وهو نحو من مد، وفي لفظ: يكون مدا أو مدا وربعا، فكان يبدأ بغسل يديه قبل أن يدخلهما الإناء ويمضمض ثلاثا، ويستنشق ثلاثا، ثم يغسل وجهه ثلاثا، ثم يغسل يديه ثلاثا ثلاثا، ثم يمسح برأسه مقبلا ومدبرا مرتين، ويمسح بأذنيه ظاهرهما وباطنهما، ويغسل قدميه ثلاثا ثلاثا، ثم قالت: إن ابن عباس قد دخل علي يسألني عن هذا الحديث فأخبرته، فقال: يأبى الناس إلا الغسل، ونجد في كتاب الله المسح على القدمين". "عب، ص، ش، د، ت، ن، هـ".
26837 ۔۔۔ ” ایضا “ عبداللہ بن محمد بن عقیل بن ابی طالب کہتے ہیں ربیع بنت معوذ بن عفراء کے پاس گیا میں نے کہا : میں اس لیے آیا ہوں تاکہ تم سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وضو کے متعلق دریافت کروں ربیع بولی : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے ساتھ ملاقات کرنے ہمارے ہاں تشریف لاتے تھے اور اس برتن میں وضو کرتے تھے وہ برتن مد کے لگ بھگ تھا ایک روایت میں ہے کہ وہ برتن مد یا سوا مد کے برابر تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے برتن میں ہاتھ داخل کرنے سے پہلے ہاتھوں کو دھوتے تھے تین بار کلی کرتے ، تین بار ناک میں پانی ڈالتے پھر تین بار چہرہ دھوتے تین تین بار ہاتھ دھوتے پھر دو مرتبہ یعنی آگے سے پیچھے اور پیچھے سے آگے سر کا مسح کرتے ، ظاہر و باطن سے کانوں کا مسح کرتے پاؤں کو تین تین بار دھوتے پھر ربیع بولی : ایک مرتبہ ابن عباس (رض) ہمارے ہاں تشریف لائے اور اس حدیث کے متعلق پوچھا میں نے انھیں یہ حدیث بتائی تھی ابن عباس (رض) بولے : لوگ پاؤں کو دھونے کے سوا کسی چیز کا نام نہیں لیتے جبکہ ہم کتاب اللہ میں پاؤں پر مسح کرنے کا حکم پاتے ہیں۔ (رواہ عبدالرزاق و سعید بن المنصور وابن ابی شیبۃ وابو داؤد والترمذی والنسائی وابن ماجہ)