2686 – "تدعى في التوراة المعمة تعم صاحبها بخير الدنيا والآخرة وتكابد عنه بلوى الدنيا والآخرة وتدفع عنه أهاويل الآخرة وتدعى الدافعة والقاضية تدفع عن صاحبها كل سوء تقضي له كل حاجة ومن قرأها عدلت له عشرين حجة ومن سمعها عدلت له ألف دينار في سبيل الله ومن كتبها ثم شربها أدخلت في جوفه ألف دواء وألف نور وألف يقين وألف بركة وألف رحمة ونزع منه كل غل وداء".(الحكيم هب) وضعفه عن أبي بكر.
2686 ۔۔ توراۃ میں اس کو معمہ کہا گیا ہے یعنی اپنے پڑھنے والے کو دنیا و آخرت کی کامیابی دلانے والی اور اس سے دنیا و آخرت کی مشقت و مصیبت دور کرنے والی۔ آخرت کی ہول ناکیوں کو دفع کرنے والی۔ اسی کو الدافعہ اور القاضیہ بھی کہا گیا ہے۔ کہ یہ اپنے پڑھنے والے سے ہر برائی اور تکلیف کو دور کرتی ہے۔ اس کی تمام حاجات پوری کرتی ہے۔ جو اس کو پڑھے یہ اس کے لیے دس حجوں کے برابر ہوگی۔ جو اس کو محض سنے، یہ اس کے لیے ہزار دینار راہ خدا میں دینے کے برابر ہوگی۔ جو اس کو لکھ کر اس کا پانی نوش کرے اس کے شکم میں ہزار بیماریوں کو دوائیں، ہزار نور، ہزار یقین ، ہزار برکات اور ہزار رحمتیں داخل ہوجائیں گی، اور اس سے ہر کھوٹ اور بیماری نکال لی جائے گی۔ (الحکیم، شعب الایمان بروایت ابی بکر)
حدیث ضعیف ہے۔