27764- عن عائشة أنها قالت: "نعم النساء نساء الأنصار لم يكن يمنعهن الحياء أن يتفقهن في الدين وأن يسألن عنه، ولما نزلت سورة النور شققن حجز 1 مناطقهن فاتخذنها خمرا، وجاءت فلانة فقالت: يا رسول الله إن الله لا يستحيي من الحق كيف أغتسل من الحيض؟ قال: "لتأخذ إحداكن سدرها وماءها ثم تطهر فتلتمس الطهور ثم لتفض على رأسها ولتلصق ستور رأسها ثم لتفض على جسدها ولتأخذ فرصة ممسكة فلتطهر بها قالت: كيف أتطهر بها؟ فاستحيي منها رسول الله صلى الله عليه وسلم واستتر منها وقال: سبحان الله تطهري بها فلمحت الذي قال، فأخذت بجيب درعها فقلت: تتبعين بها آثار الدم". "عب".
27764 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) نے فرمایا : انصار کی عورتیں بہت اچھی ہیں دین میں سمجھ بوجھ پیدا کرنے کے لیے حیاء ان کے مانع نہیں ہوسکی چنانچہ جب سورت نور نازل ہوئی تو ان عورتوں نے کمر بند پھاڑ کر اوڑھنیاں بنالیں چنانچہ فلاں عورت آئی اور بولی : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اللہ تبارک وتعالیٰ حق گوئی سے نہیں شرماتا ، میں حیض سے کیسے غسل کروں ؟ آپ نے فرمایا : تم میں سے جس عورت کو حیض آئے وہ (خون ختم ہونے پر) بیری کے پتے اور پانی لے کر طہارت حاصل کرے ، پھر اپنے سر پر پانی ڈالے بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچائے پھر اپنے جسم پر پانی بہائے پھر روئی کو خوشبو میں معطر کرکے پانی حاصل کرے وہ عورت بولی : میں کیسے پاکی حاصل کروں ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس عورت سے حیاء کرلی اور اس سے ستر کرلیا ، فرمایا : سبحان اللہ اس سے پاکی حاصل کرو میں نے آنکھ سے عورت کی طرف اشارہ کیا اور اس کا آنچل پکڑ کر کہا ، روئی میں خوشبو لگا کر اندام نہانی میں رکھو تاکہ خون کا اثر ختم ہوجائے یعنی بو جاتی رہے ۔ (رواہ عبدالرزاق)