2792 – "من قرأ منكم بالتين والزيتون فانتهى إلى آخرها أليس الله بأحكم الحاكمين. فليقل: بلى، وأنا على ذلك من الشاهدين،ومن (1) قرأ لا أقسم بيوم القيامة، فانتهى إلى أليس ذلك بقادر على أن يحيى الموتى فليقل بلى، ومن قرأ والمرسلات فبلغ فبأي حديث بعده يؤمنون، فليقل آمنا بالله" (د ت عن أبي هريرة) .
2792 ۔۔۔ جو شخص سورة التین والزیتون پڑھے اور اس کے ختم " الیس اللہ باحکم الحاکمین " پر پہنچے تو اس کو کہنا چاہیے " بلی و انا علی ذالک من الشاھدین " آیت کے آخر حصہ کا معنی ہے کیا اللہ حاکموں کا حاکم نہیں ہے ؟ جس کا جواب دے کیوں نہیں میں بھی اس پر شہادت دیتا ہوں کہ آپ ہی احکم الحاکمین ہیں۔ اور جو سورة قیامہ پڑھے اور آخر میں اس آیت پر پہنچے " الیس ذلک بقادر علی ان یحییٰ الموتی۔ تو کہے، بلی، آیت کے آخر حصہ کا معنی ہے کیا وہ اللہ مردوں کو زندہ کرنے پر قادر نہیں ہے ؟ تو جواب دے کیوں نہیں۔ اور جو سورة مرسلات پڑھے اور آخر میں اس آیت پر پہنچے " فبای حدیث بعدہ یومنون " تو کہے امنا باللہ۔ آیت کے آخر حصہ کا معنی ہے۔ اس بات کے سوا اور کس بات پر ایمان لاؤ گے ؟ جواب ہم اللہ پر ایمان لے آئے۔ (ابو داؤد، الصحیح للترمذی (رح) بروایت ابوہریرہ (رض))