28194- "علام تدغرن أولادكن بهذا العلاق عليكن بهذا العود الهندي فإن فيه سبعة أشفية من سبعة أدواء منها ذات الجنب يسعط به من العذرة ويلد به من ذات الجنب". "حم، خ، م، د، حب"
عن أم قيس بنت محصن قالت دخلت بابن لي على رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد اعلقت عليه من العذرة قال - فذكره، وأخرجه عبد الرزاق إلى قوله منها ذات الجنب قال الزهري يسعط للعذرة ويلد من ذات الجنب وظاهره أن هذا القدر مدرج.
28194 ۔۔۔ کیوں اپنے بچوں کو (کپڑے کی) اس بتی سے نشتر لگائی ہو ؟ اپنے اوپر اس عود ھندی کو لازم کرلو بیشک اس میں سات بیماریوں کا علاج ہے جن میں سے ذات الجنب (نمونیہ) ہے گلے کی دکھن میں یہ ناک میں چڑھائی جاتی ہے اور ذات الجنب میں کنارہ فم (بانچھ) سے حلق میں پہنچائی جاتی ہے۔ (مسند احمد ، بخاری مسلم ابوداؤد ، ابن حبان ، عن ام قیس (رض) بنت محصن) روایہ حدیث یعنی ام قیس (رض) کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اپنے ایک بیٹے کو لے کر اور میں نے گلے پھول جانے کی وجہ سے اس (کے متاثرہ حصہ) کو مسلا تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ ارشاد فرمایا (جو ابھی گذرا) محدث عبدالرزاق نے اس حدیث کو منہا ذات الجنت (اور ان سات میں سے ذات الجنب (نمونیہ) ہے تک نقل کیا ہے زہری کہتے ہیں کہ (روایت کا ٹکڑ) ” یسعط للعذۃ ویلد من ذات الجنب “۔ (گلے کی دکھن میں ناک میں چڑھائی جاتی ہے اور نمونیہ میں کنارہ فہم سے حلق میں پہنچائی جاتی ہے) مدرج ہے یعنی روای کا اضافہ ہی منجملہ کلام رسول نہیں ۔ یا یہ ترجمہ کیا جائے ” اس کے دو نتھنے خون چھوڑ رہے تھے ۔ “ التمر۔۔۔ کھجور :