hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 2887

.

كنز العمال

2887
Kanz al-Ummal
2887- "يجيء نوح وأمته، فيقول الله: هل بلغت؟ فيقول: نعم، أي رب، فيقول لأمته: هل بلغكم؟ فيقولون: لا، ما جاءنا من نبي، فيقول: لنوح من يشهد لك، فيقول: محمد وأمته، وهو قوله تعالى: {وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطاً لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ} ، والوسط: العدل، فتدعون فتشهدون له بالإبلاغ، ثم أشهد عليكم". "حم خ ت ن هـ عن أبي سعيد".
2887:۔۔ وکذلک جعلناکم امۃ وسطا لتکونوا شہداء علی الناس ویکون الرسول علیکم شہیدا۔ (بقرۃ : 143)
اور اسی طرح ہم نے تم کو امت معتدل بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو۔ (اور رسول تم پر گواہ بنیں) قیامت کے روز نوح اور اس کی امت آئے گی اللہ پاک نوح (علیہ السلام) کو فرمائیں گے : کیا تم نے پیغام رسالت پہنچا دیا تھا ؟ وہ عرض کریں گے جی ہاں اے پروردگار ! پروردگار ان کی قوم سے پوچھیں گے کیا تم کو پیغام مل گیا تھا ؟ وہ کہیں گے : نہیں ہمارے پاس کوئی نبی نہیں آیا۔ پروردگار حضرت نوح (علیہ السلام) سے دریافت فرمائیں گے : کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے ؟ حضرت نوح (علیہ السلام) محمد( (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کا نام لیں گے۔ یہی مذکورہ فرمان الٰہی کا مطلب ہے۔ پھر امت کو بلایا جائے گا اور تم پیغمبر کے حق میں پیغام رسالت پہنچانے کی گواہی دوگے اور میں تم پر گواہی دوں گا۔ مسند احمد، بخاری، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ بروایت ابو سعید (رض) ۔
اس حدیث کی مزید وضاحت ذیل کی حدیث سے ہوتی ہے۔