2898- "لما حملت حواء طاف بها إبليس، وكان لا يعيش لها ولد، فقال: سميه عبد الحارث، فإنه يعيش، فسمته عبد الحارث، فعاش، وكان ذلك من وحي الشيطان وأمره". "حم ت ك والضياء عن سمرة".
2898: جب حواء (علیہا السلام) حاملہ ہوئیں تو ابلیس ان کے پاس آیا۔ حضرت حواء کا کوئی بچہ زندہ نہ بچتا تھا، ابلیس نے آپ کو کہا، بچے کا نام عبدالحارث رکھ دینا، پھر و بچہ جیے گا، حضرت حواء نے بچے کا نام عبدالحارث رکھا تو واقعی و جیا۔ یہ شیطان کے بہکانے سے ہوا۔ (مسند احمد، ترمذی، مستدرک الحاکم ایضا بروایت حضرت سمرۃ بن جندب) ۔
تشریح مع کلام : فلما تغشٰھا حملت حملا خفیفا فمرت بہ۔ الاعراف : 189 ۔ جب مرد نے عورت کو ڈھانکا تو حمل رہا ہلکا سا حمل تو چلتی پھرتی رہی اس کے ساتھ۔
اس آیت کی تفسیر میں مذکورہ روایت نقل کی جاتی ہے۔ صرف امام ترمذی (رح) نے اس کو مرفوع روایت کیا ہے جس کے متعلق امام ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں یہ تین وجہ سے معلول ہے (لہذا اس سے دلیل پکڑنا درست نہیں)
اس کے علاوہ باقی آثار ہیں اور غالباً وہ اہل کتاب سے ماخوذ ہیں۔ چنانچہ آیت میں جو آگے فرمان ہے کہ پھر وہ ماں باپ بچے کی پیدائش کے بعد شرک کرنے لگتے ہیں اس سے مراد حضرت آدم اور حضرت حواء (علیہا السلام) نہیں ہوسکتے کیونکہ پیغمبروں سے شرک جیسا بڑا گناہ سرزد ہونا محال ہے۔ شروع آیت میں حضرت آدم و حواء (علیہما السلام) نہیں ہوسکتے کیونکہ پیغمبروں سے شرک جیسا بڑا گناہ سرزد ہونا محال ہے۔ شروع آیت میں حضرت آدم و حواء (علیہما السلام) ہی کا ذکر ہے بعد میں علم سے جنس کی طرح تحویل ہوئی ہے جیسا کہ قرآن پاک میں بعض مقامات پر ایسا وا ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں۔ تفسیر عثمانی بذیل۔ سورة الاعراف : 189