hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 2911

.

كنز العمال

2911
Kanz al-Ummal
2911- "مريم" "الورود الدخول، لا يبقى بر ولا فاجر إلا دخلها، فتكون على المؤمنين بردا وسلاما، كما كانت على إبراهيم، حتى إن للنار ضجيجا من بردهم، {ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيّاً} ."حم هـ في تفسيره ك عن جابر".
2911: سورة مریم۔ الرود سے مراد دخول ہے۔ کوئی نیک بچے گا نہ فاجر مگر جہنم (کے راستے) میں ضرور داخل ہوگا۔ پس وہ مومنین پر ٹھنڈی اور باعث سلامتی ہوجائے گی، جیسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر ہوئی تھی۔ حتی کہ مومنوں کی ٹھنڈک کی وجہ سے جہنم کی چیخیں نکلیں گی۔ پھر اللہ تعالیٰ متقین کو اس سے نجات دیں گے اور ظالموں کو اس میں اوندھے منہ چھوڑ دیں گے۔ (مسند احمد، ابن ماجہ، مستدرک الحاکم بروایت جابر (رض))
تشریح : فرمان الہی ہے :
وان منکم الا واردھا کان علی ربک حتما مقضیا۔
اور تم میں کوئی (شخص) نہیں مگر اس کو اس پر گزرنا ہوگا یہ تمہارے پروردگار پر لازم اور مقرر ہے۔
ثم ننجی الذی اتقو و نذر الظالمین فیھا جثیا۔ مریم 71 ۔ 72 ۔
پھر ہم پرہیزگاروں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل پڑا ہوا چھوڑ دیں گے۔
مذکورہ حدیث اس آیت کریمہ کی تشریح ہے۔ جس میں ہر شخص کے پس صراط سے گزرنے کا ذکر ہے۔
کلام : علامہ البانی (رح) نے ضعیف الجامع 6106 پر اس روایت کو ضعیف شمار کیا ہے۔