29419- عن علي أنه قال: يا حملة القرآن اعملوا به فإن العالم من عمل بما علم ووافق عمله علمه وسيكون أقوام يحملون العلم لا يجاوز تراقيهم يخالف سريرتهم علانيتهم، ويخالف عملهم علمهم يجلسون حلقا فيباهي بعضهم بعضا حتى إن أحدهم ليغضب على جليسه حين يجلس إلى غيره ويدعه، أولئك لا تصعد أعمالهم في مجالستهم تلك إلى الله. "قط" في حديث ابن مردك، "خط" في الجامع وأبو الغنائم النرسي في كتاب أنس، العاقل، "كر".
29419 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کی روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا : اے حاملین قرآن قرآن پر عمل کرتے رہو ، چونکہ عالم وہی ہے جو اپنے علم پر عمل کرتا ہو اور اس کا عمل اس کے علم کے موافق ہو عنقریب کچھ لوگ ہوں گے جو علم حاصل کریں گے لیکن علم ان کے گلوں سے نیچے نہیں اترے گا ان کا باطن ان کے ظاہر سے مخالف ہوگا ان کا علم ان کے علم کے مخالف ہوگا حلقہ در حلقہ بیٹھیں گے اور ایک دوسرے پر فخرکریں گے حتی کہ ان میں ان میں سے بعض اپنے ساتھی پر غصہ ہوں گے وجہ صرف اتنی ہوگی کہ وہ دوسروں کے ساتھ جا بیٹھے گا ان لوگوں کے اعمال ان کی مجلسوں سے اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں اٹھنے پائیں گے ۔ (رواہ الدارقطنی فی حدیث ابن مردک والخطیب فی الجامع وابو الغنائم النرسی فی کتاب انس والعاقل وابن عساکر)