2977- "هل تنتج إبل قومك صحاحا آذانها فتعمد إلى موسى فتقطع آذانها فتقول هذه بحيرة وتنشق1جلودها وتقول هذه حرم2 فتحرمها عليك وعلى أهلك ما أعطاه الله لك حل، ساعد الله أشد من ساعدك وموسى الله أحد من موساك". "حم طب "حب –3" ك ق عن أبي الأحوص عن أبيه".
2977: تمہاری قوم کی اونٹنیوں نے صحیح کانوں والے بچے جنے ہوں کیا تم چھری لے کر ان کے کان کاٹ دوگے پھر کہوگے یہ بحیرہ اس کا دودھ ہے۔ بتوں کے نام اور ان کی کھالیں کاٹ دوگے اور کہوگے یہ حروم (حرام ) ہیں پھر تم ان کو اپنے اوپر اور اپنے اہل و عیال پر حرام کرلوگے، جس کو اللہ نے تمہارے لیے حلال کیا ہے۔ اللہ کا بازوتمہارے بازو سے زیادہ مضبوط ہے اور اللہ کی چھری تمہاری چھری سے زیادہ تیز ہے۔ (مسند احمد، الطبرانی فی الکبیر ابن حبان، مستدرک الحاکم، السنن للبیہقی، بروایت ابی الاحوص عن ابیہ)
تشریح : مشرکین عرب کسی جانور کا دودھ بتوں کے نام وقف کردیا کرتے تھے اس کو بحیرہ کہتے تھے۔ اور کسی جانور کو بت کے نام وقف کرکے اس کا کھانا اور اس سے کسی بھی طرح کا نفع اٹھانا اپنے اوپر حرام کرلیتے تھے۔ اس کی ممانعت مذکورہ حدیث میں کی گئی ہے۔ یہ حدیث سورة المائد کی آیت نمبر 103 کی تشریح ہے۔ جبکہ آیت میں اور بھی انواع مذکور ہیں جن کو مشرکین اپنے لیے حرام تصور کرتے تھے۔ مذکورہ آیت کی تفسیر میں مزید تفصیل ملاحظہ کیجیے۔ آخر میں حدیث میں سمجھایا گیا ہے کہ اگر یوں کان کاٹ کر یا کھال کاٹ کر کوئی چیز حرام کی جاسکتی ہے تو کیا خدا یہ نہیں کرسکتا اس کا بازو اور اس کی چھری تمہارے بازو اور تمہاری چھری سے زیادہ طاقتور ہیں۔