30145- "من مسند جرير البجلي" لما كنا بالغميم لقي رسول الله صلى الله عليه وسلم خبرا من قريش أنها بعثت خالد بن الوليد في جريدة خيل يتلقى رسول الله صلى الله عليه وسلم وكره رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يتلقاه، وكان بهم رحيما فقال: من رجل يعدل بنا عن الطريق؟ فقلت: أنا بأبي أنت فأخذتهم في طريق قد كان مهاجري بها فدافد وعتاب، فاستوت بنا الأرض حتى أنزلته على الحديبية، وهي نزح فألقى فيها سهما أو سهمين من كنانته، ثم بصق فيها ثم دعا ففارت عيونها حتى أني أقول: لو شئنا لاغترفنا بأيدينا. "طب".
30145 ۔۔۔ ” مسند جریر بجلی “ جریر (رض) کی روایت ہے کہ جب ہم مقام غمیم پہنچے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قریش کی طرف سے خبر ملی کہ انھوں نے خالد بن ولید کی کمان میں کچھ شہسوار نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی راہ میں روڑے اٹکانے کے لیے بھیجے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے مڈ بھیڑ کرنا اچھا نہ سمجھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان پر رحم دل تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کون شخص ہے جو متبادل راستے میں ہماری راہنمائی کرے گا ؟ میں نے عرض کیا : میرا باپ آپ پر فدا ہو اس کام کے لیے میں تیار ہوں۔ چنانچہ ہم نے یہ راستہ چھوڑ دیا اور متبادل راستے پر چلتے ہوئے ہم حدیبیہ آن پہنچے حدیبیہ ایک کنواں ہے اسمیں آپ نے ایک یا دو تیر ڈالے پھر کنویں میں لعاب ڈالا پھر دعا کی کنواں پانی سے پھوٹ پڑا حتی کہ پانی اتنا اوپر آگیا کہ اگر ہم چاہتے چلو بھر لیتے ۔ (رواہ الطبرانی)