30146- عن ناجية بن جندب بن ناجية قال: لما كنا بالغميم لقي رسول الله صلى الله عليه وسلم خبر قريش أنها بعثت خالد بن الوليد في جريدة خيل نتلقى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فكره رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يلقاه وكان بهم رحيما، فقال: من رجل يعدلنا عن الطريق؟ فقلت: أنا بأبي أنت وأمي يا رسول الله، فأخذت بهم في طريق قد كان مهاجري بها فدافد وعتاب، فاستوت بي الأرض حتى أنزلته على الحديبية وهي نزح قال: فألقى فيها سهما أو سهمين من كنانته، ثم بصق فيها، ثم دعا ففارت عيونها حتى أني لأقول: لو شئنا لاغترفنا بأقداحنا. "ش" وأبو نعيم.
30146 ۔۔۔ ناجیہ بن جندب بن ناجیہ روایت کی ہے کہ جب ہم مقام غمیم پہنچے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر پہنچی کہ قریش نے خالد بن ولید کی کمان میں گھوڑ سواروں کو لشکر دے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی راہ میں رکاوٹ بنانے کے لیے بھیجا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے مد مقابل ہونا اچھا نہ سمجھا آپ کو ان پر رحم بھی آ رہا تھا آپ نے فرمایا : کون شخص ہمیں متبادل راستے پر لے جائے گا میں نے عرض کیا : میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں اس کام کے لیے میں تیار ہوں چنانچہ میں لشکر کو متبادل راستے پر لے کر چلا اور یوں ہم راستہ طے کرتے ہوئے حدیبیہ آپہنچے حدیبیہ ایک کنواں ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ترکش سے ایک یا دو تیر کنویں میں ڈالے پھر اس میں لعاب ڈالا پھر دعا کی کنواں پانی سے پھوٹ پڑا اگر ہم چاہتے اپنے پیالے بھر لیتے (رواہ ابن ابی شیبۃ وابو نعیم)