hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 30147

.

كنز العمال

30147
Kanz al-Ummal
30147- عن رفاعة بن عرابة الجهني قال: أقبلنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى إذا كنا بالكديد - أو قال: بقديد - وجعل رجال منا يستأذنون إلى أهاليهم، فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يأذن لهم وقال: ما بال شق الشجرة الذي يلي رسول الله أبغض إليكم من الشق الآخر؟ فلم نر بعد ذلك من القوم إلا باكيا، فقال أبو بكر: إن الذي يستأذنك في شيء بعدها لسفيه، فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم، فحمد الله وأثنى عليه وقال: أشهد عند الله، وكان إذا حلف قال: والذي نفس محمد بيده ما منكم من أحد يؤمن بالله ثم يسدد إلا سلك به في الجنة، ولقد وعدني ربي أن يدخل من أمتي الجنة سبعين ألفا لا حساب عليهم ولا عذاب، وإني لأرجو أن لا يدخلوها حتى تتبوؤا أنتم ومن صلح من أزواجكم وذرياتكم مساكن في الجنة ثم قال: إذا مضى نصف الليل - أو قال - ثلثاه - ينزل الله تعالى إلى سماء الدنيا فيقول: لا أسأل عن عبادي أحدا غيري، من ذا الذي يسألني أعطيه من ذا الذي يدعوني أستجيب له؟ من ذا الذي يستغفرني أغفر له حتى ينصدع الفجر. "حم" والدارمي وابن خزيمة، "حب، طب".
30147 ۔۔۔ رفاعہ بن عرابہ جبنی کی روایت ہے کہ جب ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مقام کدید پہنچے تو کچھ لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اپنے گھر والوں کے پاس جانے کی اجازت چاہنے لگے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انھیں اجازت دیتے رہے اور فرمایا : اس درخت کا کیا حال ہے جو اللہ کے رسول کے قریب ہے وہ غم سے نڈھال ہے اس کے بعد ہم نے جسے بھی دیکھا وہ رو رہا تھا ابوبکر (رض) نے فرمایا : جو شخص بھی آپ سے اجازت چاہے وہ بیوقوف ہے پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور اللہ تبارک وتعالیٰ کی حمدوثناء کے بعد فرمایا : میں اللہ تبارک وتعالیٰ کے ہاں قسم کھاتا ہوں آپ جب قسم اٹھاتے یوں کہتے قسم اس ذات کی جس کی قبضہ قدرت میں محمد کی جان ہے تم میں سے جو شخص بھی دولت ایمان سے بہرہ مند ہو اور پھر وہ درستی پہ رہے جنت میں جائے گا میرے رب نے مجھ سے وعدہ کر رکھا ہے کہ میری امت سے ستر ہزار لوگوں کو بغیر حساب کے جنت میں داخل کرے گا اور انھیں کوئی عذاب نہیں ہوگا میں امید کرتا ہوں کہ تم جنت میں اس وقت تک نہیں داخل ہو گے جب تک تم جنت کا حق نہیں ادا کرو گے یہی حال تمہاری بیویوں اور اولاد کا ہے پھر جب نصف رات یا تہائی رات گذر چکی فرمایا : اللہ تبارک وتعالیٰ اس وقت آسمان دنیا پر نزول کرتا ہے اور کہتا ہے مجھ سے جو شخص بھی مانگتا ہے میں اسے عطا کرتا ہوں جو بھی مجھ سے دعا کرتا ہے میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں جو بھی مجھ سے بخشش طلب کرتا ہے میں اس کی بخشش کرتا ہوں حتی کہ اسی حال میں فجر ہوجاتی ہے (رواہ احمد بن حنبل والدارمی وابن خزیمہ وابن حبان والطبرانی)