30157- "مسند الصديق رضي الله عنه" عن أسماء بنت أبي بكر قالت: لما كان عام الفتح خرجت ابنة لأبي قحافة فلقيتها الخيل وفي عنقها طوق من ورق، فاقتطعه إنسان من عنقها فلما دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم المسجد قام أبو بكر فقال: أنشد بالله والإسلام طوق أختي، فوالله ما أجابه أحد ثم قال الثانية فما أجابه أحد فقال: يا أخية احتسبي طوقك، فوالله إن الأمانة اليوم في الناس لقليل. "هق" في الدلائل.
30157 ۔۔۔ ” مسند سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) “ حضرت اسماء بنت ابی بکر (رض) کی روایت ہے کہ فتح مکہ کے سال ابو قحافہ کی ایک بیٹی گھر سے باہر نکلی کچھ گھڑ سواروں کی اس سے ملاقات ہوئی اور کسی شخص نے اس کے گلے سے چاندی کا ہار چھین لیا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد حرام میں داخل ہوئے سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے کھڑے ہو کر کہا : میں اللہ تعالیٰ اور اسلام کا واسطہ دیتا ہوں کہ میری بہن کا ہار برآمد کیا جائے بخدا کسی شخص نے بھی سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی بات کا جواب نہ دیا آپ (رض) نے دوسری بار یہی گذارش کی مگر اب کی بار بھی کسی نے جواب نہ دیا ، یہاں آپ (رض) نے بہن سے کہا : اے بہن اپنے ہار کو اللہ کی راہ میں باعث ثواب سمجھو بخدا ! آج لوگوں میں امانتداری کا احساس کم ہے۔ (رواہ البیہقی فی الدلائل)