30197- عن مجاهد أن النبي صلى الله عليه وسلم قدم يوم الفتح والأنصاب بين الركن والمقام، فجعل يكفئها لوجوهها، ثم قام رسول الله صلى الله عليه وسلم خطيبا فقال: ألا إن مكة حرام أبدا إلى يوم القيامة لم تحل لأحد من قبلي، ولا تحل لأحد بعدي غير أنها أحلت لي ساعة من النهار لا يختلى خلاها ولا ينفر صيدها، ولا يعضد شجرها، ولا يلتقط لقطتها إلا أن تعرف فقام العباس فقال: يا رسول الله إلا الإذخر لصاغتنا وقبورنا وبيوتنا فقال: إلا الإذخر إلا الإذخر. "ش".
30197 ۔۔۔ مجاہد روایت کی ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے جبکہ کعبہ میں رکن اور مقام ابراہیم کے درمیان بت نصب تھے آپ نے بتوں کو اوندھے منہ کردیا پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا : خبردار مکہ حرمت والا شہر ہے اور تاقیامت حرمت والا رہے گا مجھے سے قبل کسی کے لیے حلال نہیں ہوا اور میرے بعد بھی کسی کے لیے حلال نہیں ہوگا البتہ گھڑی بھر کے لیے حرم پاک میرے لیے حلال کیا گیا حرم پاک کی گھاس بھی محترم ہے ہرگز نہ کاٹے جائے حرم کا شکار نہ بھگایا جائے اس کے درخت نہ کاٹے جائیں حرم میں گری پڑی چیز نہ اٹھائی جائے البتہ وہ شخص اٹھاسکتا ہے جو اس کا اعلان کرنا چاہتا ہو۔ حضرت عباس (رض) کھڑے ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) البتہ اذخر گھاس کی اجازت ہے چونکہ سناروں قبروں اور گھروں کے لیے یہ گھاس کام آتی ہے آپ نے فرمایا : جی ہاں سوائے اذخر کے جی ہاں سوائے اذخر کے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)