30201- حدثنا عبد الله بن موسى أنبأنا موسى بن عبيد عن يعقوب بن زيد بن طلحة التيمي ومحمد بن المنكدر قالا: كان بمكة يوم الفتح ستون وثلثمائة وثن على الصفا وعلى المروة صنم وما بينهما محفوف بالأوثان والكعبة قد أحيطت بالأوثان، قال محمد بن المنكدر: فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعه قضيب يشير به إلى الأوثان، فما هو إلا أن يشير إلى شيء منها فيتساقط حتى أتى أساف ونائلة وهما قدام المقام مستقبل باب الكعبة فقال: عفروهما فألقاهما المسلمون قال، قولوا: قالوا: ما نقول يا رسول الله؟ قال: قولوا صدق الله وعده ونصر عبده وهزم الأحزاب وحده. "ش".
30201 ۔۔۔ یعقوب بن زید بن طلحہ تیمی اور محمد بن منکدر کی روایت ہے کہ مکہ میں فتح کے موقع پر صفا پر تین سو ساٹھ بت تھے مروہ پر ایک بت تھا جبکہ ان کے درمیان کا علاقہ بتوں سے اٹا پڑا تھا اور کعبہ بھی بتوں سے بھرا ہوا تھا محمد بن منکدر کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک چھڑی تھی آپ بتوں کی طرف چھڑی سے اشارہ کرتے اور بت گرجاتے حتی کہ آپ اساف اور نائلہ کے پاس آگئے یہ دونوں بت کعبہ کے دروازے کے بالمقابل نصب تھے آپ نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو حکم دیا کہ انھیں توڑ ڈالو اور کہو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کی کیا کہیں ؟ فرمایا : کہو اللہ تعالیٰ نے وعدہ سچ کر دکھایا ۔ اپنے بندے کی مدد کی اور اس نے اکیلے ہی نے لشکروں کو ہزیمت دی ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)