30221- عن العباس بن المطلب قال: شهدت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم حنين وما معه إلا أنا وأبو سفيان بن الحارث، فلزمنا النبي صلى الله عليه وسلم فلم نفارقه وهو على بغلة شهباء، وأنا آخذ بلجامها أكفها وهو لا يألو ما أسرع نحو المشركين فقال لي: ناد أصحاب السمرة فأقبل المسلمون فنظر وهو كالمتطاول إلى قتالهم فقال هذا حين حمي الوطيس، ثم أخذ حصيات فرمى بها وجوههم وقال: هزموا ورب الكعبة، فهزمهم الله فكأني أنظر إلى النبي صلى الله عليه وسلم خلفهم يركض على بغلته.
العسكري في الأمثال.
30221 ۔۔۔ حضرت عباس بن مطلب کی روایت ہے کہ میں غزوہ حنین میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ میں آپ کے ساتھ صرف میں اور ابوسفیان بن حارث تھے ہم دونوں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ چمٹے رہے آپ سے الگ نہیں ہوئے ، آپ خچر پر سوار تھے میں نے لگام پکڑی ہوئی تھی اور برابر خچر کو روک رہا تھا جبکہ خچر مشرکین کی طرف دوڑے جا رہا تھا آپ نے مجھے فرمایا : اصحاب سمرہ کو بلاؤ اتنے میں مسلمان واپس لوٹ آئے دیکھا کہ آپ لڑائی کے لیے تیار ہیں آپ نے فرمایا : اب جنگ کے شعلے بلند ہوں گے پھر آپ نے مٹھی بھر کنکریاں اٹھا کر مشرکین کی طرف پھنکیں اور فرمایا : رب کعبہ کی قسم مشرکین ہزیمت خوردہ ہوچکے ہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو شکست سے دو چار کیا وہ وقت مجھے یوں یاد ہے گویا میں ابھی ابھی کھلی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں اور میں آپ کے پیچھے ہوں ۔ (رواہ العسکری فی الامثال)