30222- عن أبي بكر بن سبرة عن إبراهيم بن عبد الله عن عبيد بن عبد الله بن عتبة عن بعض أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم قال: جاءت أخت رسول الله صلى الله عليه وسلم السعدية إليه مرجعه من حنين فلما رآها رحب بها وبسط لها رداءه، لأن تجلس عليه فاعظمت ذلك، فعزم عليها فجلست فذرفت عينا رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى بلت دموعه لحيته فقال رجل من القوم: أتبكي يا رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: نعم لرحمها وما دخل عليها، لو كان لأحدكم أحد ذهبا ثم أعطاه في حق رضاعه ما أدى حقها، أما حقي الذي آخذ منك فلك، وأما ما للمسلمين فلست بآخذته إلا أن يطيبوا به نفسا، قال: فلم يبق أحد من المسلمين إلا أدى ما أخذ منها. "عب"؛ قال في المغني: أبو بكر بن أبي سبرة قال "حم": كان يضع الحديث.
30222 ۔۔۔ ابوبکربن سبرہ ابراہیم بن عبداللہ عبید بن عبداللہ بن عتبہ ایک صحابی سے روایت نقل کرتے ہیں کہ : جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حنین کی مہم سے فارغ ہو کر واپس لوٹے تو آپ کی رضاعی بہن سعدیہ (رض) آپ کے پاس تشریف لائیں آپ نے انھیں دیکھ کر مرحبا فرمایا اور ان کی لیے اپنی چادر بچھائی جب سعدیہ چادر پر بیٹھیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے حتی کہ آنسوؤں سے آپ کی ڈاڑھی تر ہوگئی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین میں سے ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ رو رہے ہیں ؟ فرمایا : جی ہاں مجھے ان کی رحمت پر رونا آتا ہے بالفرض اگر تم میں سے کسی شخص کے پاس احد کے برابر سونا ہو پھر وہ خرچ کر دے وہ ان کی رضاعت کا حق ادا نہیں کرسکتا ، رہی بات میرے حق کی جو میں نے تم سے لیا ہے وہ تمہارا ہے رہا مسلمانوں کا حق سو وہ ان کا اپنا حق ہے میں ان کی دلی رضا مندی کے بغیر نہیں لے سکتا ۔ چنانچہ مسلمانوں نے جو بھی لیا تھا وہ دے دیا ۔ (رواہ عبدالرزاق) ۔ کلام : ۔۔۔ معنی میں ہے کہ امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں کہ ابوبکر بن سبرہ موضوع احادیث بیان کرتا تھا ۔