30229- عن أبي الزبير عن محمد بن جبير بن مطعم عن أبيه قال: غزونا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى إذا كنا ببطن نخلة واجتمع إليه الناس فركبوه فمر بشجرة فنشبت بردائه فتخرق، فأقبل علينا بوجهه كأنه فلقة قمر وكأن عكنه أساريع ذهب فقال: يا أيها الناس أمكنوني من ردائي أتخافون علي البخل؟ فوالذي نفسي بيده لو كان معي مثل شجر وطائر نعم حمر لقسمته بينكم ثم لا تجدوني بخيلا ولا جبانا ولا كذابا. أبو نعيم.
30229 ۔۔۔ حضرت جبیر بن مطعم (رض) کی روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جہاد کہا (یعنی غزوہ حنین) حتی کہ جب ہم واپسی پر مقام بطن نخلہ پر پہنچے تو وہاں آپ کے پاس لوگوں کا ہجوم ہوگیا آپ لوگوں میں الجھے ہوئے تھے کہ ایک درخت کے پاس سے گزرے جس سے اٹک کر آپ کی چادر اتر گئی آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے یوں لگے جیسے چاند کا ٹکڑا ہو اور آپ کے بدن کی سلوئیں ایسی دکھائی دیتی تھیں جیسے سونے کی لکیریں ہوں فرمایا : اے لوگو مجھے میری چادر دو کیا تم مجھے بخیل سمجھتے ہو بخدا اگر میرے پاس درختوں اور پرندوں کے بقدر چوپائے ہوتے ہیں وہ سب تمہارے درمیان تقسیم کردیتا پھر تم مجھے بخیل جھوٹا اور بزدل نہ پاتے ۔ (رواہ ابونعیم)