30236- عن جابر قال: لقد بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الطائف حنظلة بن الربيع إلى أهل الطائف فكلمهم، فاحتملوه ليدخلوه حصنهم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من لهؤلاء وله مثل أجر غزاتنا هذه؟ فلم يقم إلا العباس بن المطلب حتى أدركه في أيديهم قد كادوا أن يدخلوه الحصن، فاحتضنه العباس وكان رجلا شديدا فاختطفه من أيديهم وأمطروا على العباس الحجارة من الحصن فجعل النبي صلى الله عليه وسلم يدعو له حتى انتهى به إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم. "كر".
30236 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ غزوہ طائف کے موقع پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حنظلہ بن ربیع کو اہل طائف کے پاس بات چیت کرنے کے لیے بھیجا ، اہل طائف حنظلہ (رض) کو اٹھا کرلے گئے اور اپنے قلعہ میں داخل کرنا چاہتے تھے : یہ حالت دیکھ کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص ان لوگوں سے حنظلہ کو وا گزار کرا کر لائے گا اس کے لیے اس غزوے جیسا اجر وثواب ہوگا چنانچہ اس کام کے لیے صرف عباس بن عبدالمطلب (رض) اٹھے انھوں نے دشمن کو قلعے کے دروازے پر جا لیا قریب تھا کہ وہ لوگ حنظلہ (رض) کو قلعہ میں داخل کرلیتے لیکن جھپٹ کر عباس (رض) نے حنظلہ (رض) کو ان سے چھین لیا عباس (رض) زبردست تندھی کے مالک تھے جونہی حنظلہ (رض) کو لے کر واپس پلٹے قلعہ کے اوپر سے ان پر دشمن نے پتھروں کی بارش برسا دی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عباس (رض) کی لیے دعائیں کرتے رہے حتی کہ عباس (رض) صحیح و سلامت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچ گئے ۔ (رواہ ابن عساکر)