30237- "من مسند سعد الأنصاري" عن سعيد بن عبيد الثقفي قال: رأيت أبا سفيان بن حرب يوم الطائف قاعدا في حائط أبي يعلى يأكل فرميته فأصبت عينه فأتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله هذه عيني أصيبت في سبيل الله، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: إن شئت دعوة الله فردت عليك، وإن شئت فالجنة قال: فالجنة. "كر".
30237 ۔۔۔ ” مسند سعد انصاری “ سعید بن عبید ثقفی کی روایت ہے کہ میں نے ابو سفیان بن حرب کو غزوہ طائف کے دن دیکھا کہ وہ ابویعلی کے باغ میں بیٹھے رہے تھے اور کچھ کھا رہے تھے میں نے آنکھ کا نشانہ لے کر تیر مارا جو سیدھا نشانے پہ جا لگا اور ان کی آنکھ جاتی رہی ابو سفیان اٹھ کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تبارک وتعالیٰ کی راہ میں میری آنکھ شہید ہوچکی ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر چاہو تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہو تمہاری آنکھ درست ہوجائے گی اور اگر چاہو کہ اس کے بدلہ میں تمہیں جنت ملے ابو سفیان نے عرض کی : مجھے جنت ملے ۔ (رواہ ابن عساکر) ۔ فائدہ : ۔۔۔ حدیث میں ان بدباطن لوگوں کے شبے کا ازالہ ہے کہ ابوسفیان کبھی بھی دل سے مسلمان نہیں ہوئے محض جان بچانے کے لیے اسلام قبول کرلیا تھا اور ہمیشہ تاوفات نفاق پر رہے بھلا ایک شخص اسلام قبول کرے اور کفر سے تائب ہو جیسا کہ فتح مکہ کے متعلق بیشمار مرویات میں گزر چکا ہے اور پھر اپنی آنکھ کو خدا کی راہ میں شہید کرے پھر شام کی فتوحات میں اہل خانہ کے ساتھ شریک ہو اس کے متعلق لب کشائی کرنا پرلے درجے کی بےہودگی ہے کیا اسلام ماقبل کی برائیوں کو ختم نہیں کردیتا ۔