30283- عن قتادة أن النبي صلى الله عليه وسلم بعث خالد بن الوليد إلى العزى وكانت لهوازن وكانت سدنتها بنو سليم فقال: انطلق فإنه تخرج عليك امرأة شديدة السواد طويلة الشعر عظيمة الثديين قصيرة فشد عليها خالد فضربها فقتلها، وجاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا خالد ما صنعت؟ قال: قتلتها قال: ذهبت العزى فلا عزى بعد اليوم. "كر". بعث جرير
30283 ۔۔۔ قتادہ کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت خالد بن ولید (رض) کو ہوازن کے بت عزی کو گرانے کے لیے بھیجا اس بت کی دیکھ بھال کا کام بنو سلیم کے سپرد تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت خالد بن ولید (رض) سے فرمایا : جاؤ تمہارے پاس ایک عورت آئے گی جو بہت سیاہ لمبے بالوں والی بڑے بڑے پستانوں والی اور کوتاہ قد ہوگی چنانچہ اسی صفات کی عورت حضرت خالد بن ولید (رض) کے پاس آئی حضرت خالد بن ولید (رض) نے تلوار سے اس پر حملہ کیا اور اسے قتل کردیا پھر خالد (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس واپس لوٹ آئے آپ نے پوچھا اے خالد تم نے کیا کیا ؟ عرض کی : میں نے اس عورت کو قتل کردیا ہے آپ نے فرمایا : عزی کا خاتمہ ہوا آج کے بعد عزی کا وجود نہیں رہے گا ۔ (رواہ ابن عساکر)