30284- عن جرير قال: بعث إلي علي بن أبي طالب ابن عباس والأشعث بن قيس وأنا بقرقيسياء فقالا: إن أمير المؤمنين يقرئك السلام ويقول: نعم ما أراك الله من مفارقتك معاوية، وإني أنزلك مني بمنزلة رسول الله صلى الله عليه وسلم التي أنزلتكها، فقلت: "إن رسول الله صلى الله عليه وسلم بعثني إلى اليمن أقاتلهم وأدعوهم أن يقولوا لا إله إلا الله، فإذا قالوها حرمت دماؤهم وأموالهم" فلا أقاتل أحدا يقول لا إله إلا الله فرجعا على ذلك. "طب".
30284 ۔۔۔ حضرت جریر (رض) کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) اور اشعث بن قیس کو میرے پاس بھیجا میرا قیام مقام قرقیساء میں تھا ان دونوں نے کہا : امیر المؤمنین آپ کو سلام کہتے ہیں اور انھوں نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اچھا کیا ہے جو تمہیں معاویہ سے جدا کردیا میں تمہیں وہی مقام دوں گا جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہیں دیتے تھے میں نے جواب میں کہا : مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یمن بھیجا تھا تاکہ اہل یمن سے جہاد کروں اور انھیں اسلام کی دعوت دوں یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کا اقرار کرلیں جب وہ اس کا اقرار کرلیں تو انھوں نے اپنے اموال اور جانیں محفوظ جکر لیں میں ایسے شخص سے جنگ نہیں کروں گا جو ” لا الہ الا اللہ “ کا اقرار کرتا ہو۔ چنانچہ حضرات واپس لوٹ گئے ۔ (رواہ الطبرانی)