30293- عن عمرو بن مرة قال: كان رسول اله صلى الله عليه وسلم بعث جهينة ومزينة إلى أبي سفيان بن الحارث بن عبد المطلب الهاشمي وكان منابد النبي صلى الله عليه وسلم فلما ولوا غير بعيد قال أبو بكر الصديق: يا رسول الله بأبي أنت وأمي على ما تبعث كبشين قد كادا يتهاينان في الجاهلية أدركهم الإسلام وهم على بقية منها، فأمر النبي صلى الله عليه وسلم بردهم حتى وقفوا بين يديه فقال: يا مزينة حي جهينة يا جهينة حي مزينة فعقد لعمرو بن مرة على الجيشين على جهينة ومزينة ثم قال: سيروا على بركة الله، فساروا إلى أبي سفيان بن الحارث فهزمه الله وكثر القتل في أصحابه. "كر".
30293 ۔۔۔ حضرت عمرو بن مرہ (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جہینہ اور مزینہ کو ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب ھاشمی کی سرکوبی کے لیے بھیجا ابو سفیان نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف اعلان جنگ کر رکھا تھا جب یہ دستہ تھوڑا آگے گیا سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں آپ نے کونسی مہم سر کرنے کے لیے دو مینڈھوں کو بھیجا ہے جو جاہلیت میں تیار ہوتے رہے اور پھر اسلام نے انھیں پالیا حالانکہ ان کا بقیہ جاہلیت پر ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دستے کو واپس بلانے کا حکم دیا حتی کہ دستہ واپس لوٹ کر آپ کے سامنے کھڑا ہوگیا اور آپ نے فرمایا : اے مزینہ جہینہ (جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے) کی خبر لو اے جہینہ مزینہ (جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے) کی خبر لو ، عمرو بن عمر (رض) کو جہنیہ اور مزینہ دونوں پر امیر مقرر کیا پھر فرمایا : اللہ تعالیٰ کا نام لے کر چل پڑو چنانچہ لشکر ابو سفیان بن حارث کی طرف چل پڑا اللہ تعالیٰ نے ابوسفیان حارث کو شکست سے دو چار کیا اور اس کے بہت سارے ساتھ مقتول ہوئے ۔ (رواہ ابن عساکر)