30294- عن الزهري قال: بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم بعثين إلى كلب وغسان وكفار العرب الذين كانوا بمشارف الشام، وأمر على أحد البعثين أبا عبيدة بن الجراح، وأمر على البعث الآخر عمرو بن العاص فانتدب في بعث أبي عبيدة أبو بكر وعمر، فلما كان عند خروج البعث دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم أبا عبيدة وعمرا فقال: لا تعاصيا، فلما فصلا من المدينة خلا أبو عبيدة بعمرو فقال له: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم عهد إلي وإليك أن لا تعاصيا، فإما أن تطيعني وإما أن أطيعك؟ قال: لا بل أطعني فأطاع أبو عبيدة، وكان عمرو أميرا على البعثين كليهما، فوجد عمر من ذلك قال: أتطيع ابن النابغة وتؤمره على نفسك وعلى أبي بكر وعلينا ما هذا الرأي؟ فقال أبو عبيدة لعمر: يا ابن أم إن رسول الله صلى الله عليه وسلم عهد إلي وإليه أن لا تتعاصيا، فخشيت إن لم أطعه أن أعصى رسول الله صلى الله عليه وسلم ويدخل بيني وبينه الناس، وإني والله لأطيعنه حتى أقفل فلما قفلوا كلم عمر بن الخطاب رسول الله صلى الله عليه وسلم وشكا إليه ذلك فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: " لن أؤمر عليكم بعد هذا إلا منكم يريد المهاجرين". "كر"
30294 ۔۔۔ زہری کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کلب غسان اور شام کے مضافات کے کفار کی سرکوبی کے لیے دوسرے بھیجے ان میں سے ایک سریہ کے امیر ابو عبیدۃ ابن الجراح (رض) کیے دوسرے سریہ پر حضرت عمرو بن العاص (رض) کو امیر مقرر کیا ابو عبیدہ (رض) کے سریہ میں ابوبکر (رض) اور عمر (رض) بھی شامل تھے ، روانگی کے وقت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوعبیدہ اور عمرو (رض) کو اپنے پاس بلایا اور فرمایا : ایک دوسرے کی اطاعت کرنا اور اختلاف نہیں کرنا جب دونوں سریے مدینہ سے باہر نکلے ابو عبیدہ (رض) عمرو کو لے کر الگ ہوئے اور کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اور تمہیں چلتے وقت وصیت کی ہے کہ ہم ایک دوسرے کی نافرمانی نہ کریں یا تم میری اطاعت کرو یا میں تمہاری اطاعت کروں ؟ عمرو (رض) نے کہا : نہیں بلکہ تم میری اطاعت کرو چنانچہ ابو عبیدہ (رض) عمرو (رض) کی اطاعت کرنے لگے اور عمرو (رض) دونوں سریوں کے امیر رہے اس پر عمرو رضی کو کچھ تردو ہوا (چونکہ ابو عبیدہ (رض) سابقین اولین میں سے تھے اور عمرو (رض) دونوں سریوں کے امیر رہے اس پر عمرو (رض) کو کچھ تردو ہوا (چونکہ ابو عبیدہ (رض) سابقین اولین میں سے تھے اور عمرو بن العاص سے رتبہ میں افضل تھے) اور کہا : کیا تم نے نابغہ کے بیٹے کی اطاعت اختیار کرلی اور اسے اپنے اوپر امارت کا اختیار دے دیا اور ابوبکر پر بھی اسی کو امیر تسلیم کرلیا اور ہمارے اوپر بھی اسی کو امیر بنادیا یہ کیسا فیصلہ کیا ؟ ابو عبیدہ (رض) نے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) سے کہا : اے میرے ماں جائے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چلتے وقت ہم دونوں کو حکم دیا ہے کہ ہم ایک دوسرے کی نافرمانی نہ کریں اور اختلاف سے گریز کریں مجھے خوف ہے کہ اگر میں اس کی اطاعت نہیں کروں گا تو میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی کا شکار ہوجاؤں گا اور ہمارے درمیان لوگ منقسم ہوجائیں گے بخدا میں تا واپسی اس کی اطاعت کروں گا جب لشکر واپس لوٹا سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شکایت کی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں آج کے بعد عمرو کو تمہارے اوپر امیر نہیں مقرر کروں گا البتہ اسی شخص کو امیر مقرر کروں گا جسے مہاجرین چاہیں گے ۔ (رواہ ابن عساکر)