30310- عن أبي غديرة عبد الرحمن بن خصفة الضبي قال: وفدنا إلى عمر بن الخطاب في وفد بني ضبة فقضوا حوائجهم غيري، فمر بي عمر فوثبت فإذا أنا خلف عمر على راحلته فقال: من الرجل؟ قلت ضبي قال: خشن؟ قلت: على العدو يا أمير المؤمنين، قال: وعلى الصديق فقال: هات حاجتك فقضى حاجتي ثم قال: فرغ لنا ظهر راحلتنا. ابن سعد والحاكم في الكنى.
30310 ۔۔۔ ابو غدیرہ عبدالرحمن بن خصفۃ ضبی کی روایت ہے کہ ہم بنی ضبہ کے وفد کے ساتھ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) میرے پاس سے گزرے میں نے چھلانگ لگائی اور ان کے پیچھے سوار ہوگیا آپ (رض) نے پوچھا : کون شخص ہے ؟ میں نے جواب دیا ضبی ہوں فرمایا یہ درشتی کیسی ؟ میں نے عرض کیا : اے امیر المؤمنین میری درشتی دشمن کے لیے ہے فرمایا : اور دوست پر بھی ہے فرمایا : اپنی حاجت بیان کرو پھر میری حاجت پوری کی اور فرمایا : اب میری سواری کی پیٹھ فارغ کر دو ۔ (رواہ ابن سعد والحاکم فی الکنی)