30321- "مسند حوشب ذي ظليم" عن محمد بن عثمان بن حوشب عن أبيه عن جدع قال: لما أن أظهر الله محمدا صلى الله عليه وسلم انتدبت إليه من الناس في أربعين فارسا مع عبد شر فقدموا عليه المدينة بكتابي فقال: أيكم محمد؟ قالوا: هذا قال: ما الذي جئتنا به فإن يك حقا اتبعناك؟ قال: تقيموا الصلاة وتعطوا الزكاة وتحقنوا الدماء وتأمروا بالمعروف وتنهوا عن المنكر فقال عبد شر: إن هذا لحسن مد يدك أبايعك، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ما اسمك؟ قال: عبد شر قال: لا بل عبد خير، وكتب معه الجواب إلى حوشب ذي ظليم فآمن". أبو نعيم.
30321 ۔۔۔ ” مسند حوشب ذی ظلیم “ محمد بن عثمان بن حوشب عن ابیہ عن جدہ کی سند سے مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عطا کیا تو میں نے عبد شر کے ساتھ چالیس سواروں کو روانہ کیا یہ لوگ میرا خط لے کر مدینہ پہنچے اور وہاں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے پوچھا : تم میں سے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کون ہے ؟ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے کہا : یہ ہیں وفد کے نمائیدہ عبد شر نے کہا : آپ کون سی تعلیمات لائے ہیں اگر وہ حق ہیں تو ہم آپ کی پیروی کریں گے آپ نے فرمایا : نماز قائم کرو زکوۃ دو اور اپنی جانوں کو محفوظ بنا لو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہو عبد شر نے کہا : یہ تو بیعت اچھی تعلیمات ہیں ہاتھ بڑھائیں تاکہ میں بیعت کرلو ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارا نام کیا ہے ؟ جواب دیا : میرا نام عبد شر ہے فرمایا : نہیں بلکہ تمہارا نام عبد خیر ہے آپ نے حوشب ذی ظلیم کی طرف جوابا خط لکھا ۔ (رواہ ابونعیم)