30419- من ترك مالا فلورثته، ومن ترك دينا فعلي وعلى الولاة من بعدي من بيت مال المسلمين. "طب - عن سليمان".
30419 ۔۔۔ جس نے کوئی مال چھوڑا وہ ورثہ کا حق ہے اور جو کوئی قرض اپنے ذمہ چھوڑ کر مراوہ میرے ذمہ ہے اور میرے بعد حاکم مسلم کے ذمہ سے جو بیت المال سے اداکرے گا۔
میراث تقسیم کرنے کا طریقہ
کسی کا انتقال ہوجائے تو اس کے مال سے سب سے پہلے کفن دفن کا متوسط خرچہ نکالا جائے گا اس کے بعد اس کے ذمہ کسی کا قرض ہو اس کو چکایا جائے گا اس کے بعد اگر اس نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو تہائی مال تک اس کو نافذ کیا جائے گا اس کے بعد باقی ماندہ نکل مال کو شرعی ورثہ کے درمیان تقسیم کیا جائے گا اگر اس کا کوئی وارث نہ ہو تو اس کے مال کو بیت المال میں جمع کردیا جائے گا ان روایات میں جہاں یہ فرمایا کہ میں اس کے مال کا وارث بنتاہوں اس سے مراد بیت المال میں جمع کرانا ہے اور اگر کسی کا انتقال ہوگیا اور باوجود کوشش کے وہ اپنی زندگی میں قرضہ سے سبکدوش نہ ہوسکا اب اس کا قرضہ بیت المال سے ادا کیا جائے گا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ذمہ لینے کا یہی مطلب آخری حدیث میں بیان فرمایا ہے۔