30578- عن جرير عن المغيرة عن أصحابه في قول زيد بن ثابت وعلي ابن أبي طالب وعبد الله بن مسعود رضي الله عنهم إذا ترك المتوفى ابنا فالمال له، فإن ترك ابنين فالمال بينهما، فإن ترك ثلاثة بنين فالمال بينهم بالسوية، فإن ترك بنين وبنات فالمال بينهم للذكر مثل حظ الأنثيين، فإن لم يترك ولدا للصلب وترك بني ابن وبنات ابن نسبهم إلى الميت واحد فالمال بينهم للذكر مثل حظ الانثيين وهم بمنزلة الولد إذا لم يكن ولد، وإذا ترك ابنا وابن ابن فليس لابن الابن شيء، وكذلك إذا ترك ابن ابن وأسفل منه ابن ابن وبنات ابن أسفل فليس للذي أسفل من ابن الابن مع الأعلى شيء كما أنه ليس لابن الابن مع الابن شيء، قال: وإن ترك أباه ولم يترك أحدا غيره فله المال، وإن ترك أباه وترك ابنا فللأب السدس وما بقي فللابن وإن ترك ابن ابن ولم يترك ابنا فابن الابن بمنزلة الابن. "هق"
30578 ۔۔۔ جریزبن شعبی اور ان کے ساتھیوں سے روایت کرتے ہیں کہ زید بن ثابت حضرت بلی بن ابی جانب عبداللہ بن مسعود (رض) ۔۔۔ میت ایک بینا چھوڑ کر جائے تو سارا حال اسی کو ملے گا اگر دوبیٹے چھوڑ کرجائے تو مال دونوں کے درمیان آدھا آدھا تقسیم ہوگا عورتیں بیٹے ہوں تب بھی مساوی تقسیم ہوگا اگر میت کے لڑکے اور لڑکیاں دونوں ہوں تو مال للذکر مثل حظ الانثین کے قاعدہ پر تقسیم ہوگا اور ابرعیسی اولاد موجود نہ ہوبل کہ پوتے اور پوتیاں ہو تو مال ان کے آپس میں ” للذکر مثل حظ الانثیین “ کے قاعد ہ، پر تقسیم ہوگا وہ صلبی اولاد کی جگہ ہوجائیں گے جب صلبی اولاد موجود نہ ہو جب کہ ایک حقیقی بیٹا اور ایک پوتا ہو تو پوتا میراث سے محروم ہوگا، اس طرح جب کچھ پوتے اور پوتے کی اولاد ہوں دوسرے سے کچھ پوتے پوتیاں ہوں اور نیچے نسل کی تو اعلی کی موجودگی میں اسفل کو حصہ نہیں ملے گا جس طرح بیٹے کی موجودگی میں پوتے تو کو نہیں ملتا اگر صرف باپ وارث ہے اور کوئی نہیں توسارا مال باپ کا ہوگا اگر میت کا باپ اور بیٹا موجود ہو تو باپ کو چھٹا حصہ ملے گا باقی مال بیٹے کا ہوگا اگر پوتا ہوبیٹا نہ ہو توپوتا بیٹے کے قائم مقام ہوگا۔ رواہ بیہقی