hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 30699

.

كنز العمال

30699
Kanz al-Ummal
30688- عن سعيد بن المسيب أن عمر سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم كيف يورث الكلالة؟ قال: أو ليس قد بين الله ذلك؟ ثم قرأ: {وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلالَةً أَوِ امْرَأَةٌ} إلى آخر الآية، فكان عمر لم يفهم فأنزل الله: {يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ} إلى آخر الآية، فكان عمر لم يفهم فقال لحفصة: إذا رأيت من رسول الله صلى الله عليه وسلم طيب نفس فاسأليه عنها! فقال: أبوك ذكر لك هذا؟ ما أرى أباك يعلمها أبدا! فكان يقول: ما أراني أعلمها أبدا وقد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما قال. "ابن راهويه وابن مردويه؛ وهو صحيح".
30688 ۔۔۔ سعیدبن مسیب کہتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا : کلالہ کی میراث کس طرح تقسیم ہوگی تو ارشاد فرمایا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے بیان نہیں فرمادیا ہے پھر آیت تلاوت فرمائی۔ وان کان رجل بورث کلالہ اوامراة الابة
حضرت عمر (رض) کو بات سمجھ میں نہیں آئی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری یستفتونک قل اللہ یفتیکم فی الکلالة الی آخر الایة حضرت عمر (رض) کو سمجھ میں نہیں آیا تو حضرت حفصہ (رض) سے کہا جب تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اطمینان اور مسرت کی حالت میں دیکھو توکلالہ کے بارے میں سوال کرلینا ۔ (تو انھوں نے سوال کیا ) اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ کیا آپ کے والدنے یہ سوال پوچھوایا ہے ؟ میرے خیال میں آپ اس مسئلہ کو کبھی سمجھ نہیں پائیں گے تو حضرت عمر (رض) بعد میں فرمایا کرتے تھے میرے خیال میں ، میں اس مسئلہ کو کبھی سمجھ نہیں پاؤں گا کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے متعلق یہی کچھ فرماچکے ہیں۔ ابن راھویہ وابن مردربہ وھوصحیح