31147 لن تفنى أمتي حتى يظهر فيهم التمايز والتمايل والمعامع ، قيل : يا رسول الله ! ما التمايز ؟ قال : عصبية يحدثها الناس بعدي في الاسلام ، قال : فما التمايل ؟ قال : تميل القبيلة على القبيلة فتستحل حمرتها ، قيل : فما المعامع ؟ قال : سير الامصار بعضها إلى بعض حتى تختلف أعناقهم في الحرب. (ك وتعقب عن حذيفة ، نعيم بن حماد في الفتن عن أبي هريرة).
31147 ۔۔۔ فرمایا کہ میری امت ہلاک نہ ہوگی یہاں تک ان میں تمایز، تمایل اور معامع ظاہر نہ ہوجائے عرض کیا گیا یارسول اللہ ! تمایز کیا ہے ؟ فرمایا وہ (قومی جماعتی) عصبیت جو میرے لوگ اسلام میں پیداکریں گے پوچھا گیا تمایل کیا ہے ؟ فرمایا ایک قبیلہ دوسرے قبیلہ پر حملہ آو ر ہوگا اور ان کی جان ومال کو حلال کرلیا جائے گا پوچھا گیا معامع کیا ہے فرمایا ایک شہر والے دوسرے شہر والوں پر حملہ آور ہوں گے یہاں تک گردنیں آپس میں گڈمڈ ہوں گی۔ (مستدرک اس کی تابع لائی گئی حذیفہ (رض) کی روایت سے نعیم بن حماد فی النقن بروایت ابوہریرہ (رض))