31292 (أيضا) عن حذيفة يقول : كان الناس يسألن رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الخير وكنت أسأله عن الشر مخافة أن يدركني ، فقلت : يا رسول الله ! إنا كنا أهل جاهلية وشر فقد جاء الله بهذا الخير فهل بعد هذا الخير من شر ؟ قال : نعم ، قال فقلت : فهل بعد ذلك الشر من خير ؟ قال : نعم ، وفيه دخن ، قلت وما دخنه ؟ قال : قوم يستنون بغير سنتي ويهتدون بغير هدي ، تعرف منهم وتنكر ، قلت : فهل بعد ذلك الخير من شر ؟ قال : نعم ، دعاة إلى أبواب جهنم ، من أجابهم إليها قذفوه فيها ، قال قلت : صفهم لي يا رسول الله ! قال هم من جلدتنا ويتكلمون بألسنتنا.(نعيم بن حماد في الفتن والعسكري في الامثال).
31291 ۔۔۔ (ایضا) حذیفہ (رض) سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خیر کے متعلق سوالات کرتے تھے اور میں آئندہ وقوع پذیر ہونے والے حالات کے متعلق سوالات کرتا تھا اس خوف سے کہ میں کسی برائی میں مبتلا نہ ہوجاؤں میں نے عرض کیا یارسول اللہ ہم تو جہالت اور برائی میں پڑے ہوئے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ خیر (ٕابن اسلام) عطا فرمایا تو کیا اس خیر کے بعد کوئی شر بھی ہوگا ؟ ارشاد فرمایا کہ ہاں میں نے عرض کیا کہ اس شر کے بعد کوئی خیر ہوگی ؟ ارشاد فرمایا کہ ہاں اس میں دخان یعنی خیرکا دھواں ہوگا میں نے پوچھا کہ خیرکا دھواں کیا ہے ؟ فرمایا کہ ایک قوم جو غیر سنت کو سنت سمجھ کر غیر احکام کو احکام سمجھاکرعمل کرے گی ان کے بعض اعمال اچھے ہوگے اور بعض برے میں نے عرض کیا کہ اس خیر کی بعد بھی کوئی شر ہوگا تو فرمایا کہ ہاں کہ جہنم کے دروازے پر کھڑے ہو کر کچھ لوگ دعوت دینے والے ہوں گے جو ان کی دعوت قبول کرے وہ جہنم میں داخل ہوں گے میں نے عرض کیا کہ ان کے اوصاف بیان فرمائیں اے رسول اللہ تو ارشاد فرمایا کہ وہ تو ہمارے ہی خاندان کے ہوں گے اور ہماری زبان بولیں گے۔ نعیم بن حماد فی الفتن والعسکری فی الامثال