31296 (أيضا) عن ابن عباس أنه أتاه رجل وعنده حذيفة بن اليمان فقال : يا ابن عباس ! قوله تعالى (حم عسق) فأطرق ساعة وأعرض عنه ثم كررها فلم يجبه بشئ ، فقال حذيفة : أنا أنبئك ، قد عرفت لم كرهها ، إنها نزلت في رجل من أهل بيته يقال له عبد الاله - أو عبد الله - ينزل على نهر من أنهار المشرق يبني عليه مدينتان يشق النهر بينها شقا جمع فيها كل جبار عنيد. (نعيم).
31295 ۔۔۔ (ایضا) ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک شخص آیا جب کہ حذیفہ (رض) پہلے سے وہاں تشریف فرما تھے تو انھوں نے فرمایا کہ اے ابن عباس ارشاد باری تعالیٰ حم عسق تو کچھ دیر کے لیے گردن جھکا لی اور ان سے اعراض کیا پھر دوبارہ اس بات کو دہرایا تو حضرت ابن عباس (رض) نے کوئی جواب نہیں دیاتو حذیفہ (رض) نے فرمایا کہ میں آپ کو بتلاتا ہوں کہ انھوں نے کیوں ناپسند کیا کہ یہ آیت اس کے خاندان کے ایک شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے اس کا نام عبداللہ یا عبداللہ ہوگا کہ وہ مشرقی نہروں میں سے ایک نہر پر اترے گا وہاں دو شہر آباد کرے گا نہر ان دونوں کو دو حصوں میں تقسیم کردے گی اس میں ہر قسم کے جابر ظالم لوگوں کو جمع کرے گا۔ رواہ ابونعیم