31297 عن حذيفة قال : يخرج رجل من أهل المشرق يدعوا إلى آل محمد وهو أبعد الناس منهم بنصب علامات سود ، أولها نصر وآخرها كفر ، يتبعه خشارة العرب وسفلة الموالي والعبيد الاباق ومراق الافاق ، سيماهم السواد ، ودينهم الشرك ، وأكثرهم الجدع ، قيل : وما الجدع ؟ قال : القلف ، ثم قال حذيفة لابن عمر : ولست مدركه يا أبا عبد الرحمن ! فقال عبد الله : ولكن أحدث به من بعدي ، قال : فتنة
تدعى الحالقة تحلق الدين ، يهلك فيها صريح صريح : الصريح : الخالص من كل شئ.النهاية (3 / 20) ب. ) العرب وصالح الموالي وأصحاب الكنوز والفقهاء ، وتنجلي عن أقل من القليل.(نعيم).
31296 ۔۔۔ حذیفہ (رض) سے روایت ہے کہ اہل مشرق سے ایک شخص نکلے گا جو اپنے آپ کو آل محمد کی طرف منسوب کرے گا لیکن وہ خاندان نبوت سے سب سے دور ہوگا سیاہ جھنڈے گاڑے گا اس کا اول حصہ نصرت ہے اور آخری حصہ کفر ہے اس کے پیروکار عرب کے کم درجہ کے لوگ ہوں گے اس طرح نچلے درجہ کے غلام اور بھگوڑے غلام ہوں گے ان کی علامت گنوار پن اور ان کا دین شرک اور ان میں سے اکثر جدع ہوں گے پوچھا گیا کہ جدع کیا چیز ہے ؟ تو فرمایا بغیر فتنہ کے ہونا پھر حذیفہ نے ابن عمر (رض) سے فرمایا کہ اے ابوعبدالرحمن ان سے آپ کی ملاقات نہیں ہوگی توعبداللہ بن عمر (رض) عنہمانے فرمایا کہ میں اپنے بعد والوں کو خبر دوں گا تو فرمایا ایک فتنہ ہے جو مونذنے کی دعوت دے گا اور دین کو مونڈ کر رکھ دے گا اس میں عرب کے خالص لوگ ہلاک ہوں گے اور نیک غلام مالدار لوگ اور فقہاء اور جب تھوڑے سے لوگ باقی رہ جائیں گے اس وقت فتنہ ختم ہوجائے گا۔ رواہ ابونعیم