hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 31326

.

كنز العمال

31326
Kanz al-Ummal
31315 عن حذيفة قال : كنا جلوسا عند عمر فقال : أيكم يحفظ حديث رسول الله صلى الله عليه وسلم في الفتنة كما قال ؟ قال فقلت : أنا ، قال : فقال : إنك لجرئ ! وكيف ؟ قال : قلت : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : فتنة الرجل في أهله وماله ونفسه وجاره يكفرها الصلاة والصيام والصدقة والامر بالمعروف والنهي عن المنكر ، فقال عمر : ليس هذا أريد ، إنما أريد التي تموج كموج البحر ، قال قلت : مالك ولها يا أمير المؤمنين ؟ إن بينك وبينها بابا مغلقا ، قال : فيكسر الباب أم يفتح ؟ قال قلت : لا ، بل يكسر ، قال : ذاك أحرى أن لا يغلق أبدا ، قال : قلنا لحذيفة : هل كان عمر يعلم من الباب ؟ قال : نعم ، كما أعمل أن غدا دون الليلة. إني حدثته حديثا ليس بالاغاليط ، قال : فهبنا حذيفة أن نسأله من الباب ؟ فقلنا لمسروق : سله ! فسأله ، فقال : عمر.(ش).
31315 ۔۔۔ حذیفہ (رض) سے روایت ہے کہ ہم حضرت عمر (رض) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو انھوں نے پوچھا کہ تم میں سے کس کو فتنہ کے متعلق رسول اللہ کا ارشاد یاد ہے جیسا کہ انھوں نے ارشاد فرمایا ؟ تو حذیفہ (رض) کہتے ہیں میں نے عرض کیا مجھے یاد ہے تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ تم جری ہو اور کیسے ؟ حذیفہ (رض) کہا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے سنا کہ آدمی کا فتنہ اپنے گھر والوں مال جان اور پڑوس کے متعلق نماز روزے صدقہ امربالمعروف اور نہی عن المنکر اس کا کفارہ ہوگا حضرت عمر (رض) نے فرمایا میرا مقصد یہ نہیں ہے۔ بلکہ مقصد وہ فتنہ ہے جو سمندر کی طرح موج مارے گا میں نے عرض کیا یا امیر المومنین آپ کا اس فتنہ سے کیا واسطہ اس لیے کہ آپ کے اور فتنہ کے درمیان ایک بند دروازہ حائل ہے حضرت عمر (رض) نے پوچھا وہ دروازہ کھولا جائے گا یا توڑا جائے گا میں نے کہا نہیں بلکہ توڑا جائے گا تو فرمایا یہ اس نالائق ہے کہ اس کو کبھی بند نہ کیا جائے راوی کہتے ہیں کہ ہم نے حذیفہ (رض) سے کہا کہ حضرت عمر (رض) جانتے تھے کہ دروازہ کون ہے ؟ تو انھوں نے بتایا ہاں ایسا ہی جانتے تھے کہ میں جانتا ہوں کہ رات کے بعد صبح ہوگی میں نے ان سے حدیث بیان کی وہ کوئی غالیظ نہیں ہے ہم نے چاہا کہ معلوم کریں گے دروازہ کون ہے تو ہم نے مسروق سے کہا ان سے پوچھیں دروازہ کون ہے تو انھوں نے پوچھا تو فرمایا عمر ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبة)