31349 عن حذيفة - رفعه - قال : أتتكم الفتن كقطع الليل المظلم ، يصبح الرجل مؤمنا ويمسي كافرا ويمسي مؤمنا ويصبح كافرا ، يبيع أحدكم دينه بعرض من الدنيا قليل ، قلت : فكيف نصع يا رسول الله ؟ قال : تكسر يدك ، قلت : فان انجبرت ، قال : تكسر الاخرى ، قلت : حتى متى ؟ قال : حتى تأتيك يد خاطئة أو منية قاضية.
(كر).
31349 ۔۔۔ حذیفہ (رض) سے مرفوع روایت ہے کہ تمہارے پاس فتنے آئیں گے اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح اس میں آدمی صبح مومن ہے توشام کو کافر ہوگا شام کو مومن ہے تو صبح کافر ہوگا اپنی دین کو دنیا کے تھوڑی سے نفع کے عوض فروخت کرڈالے گا میں نے عرض کیا اس زمانہ میں ہمیں کیا کرنا چاہیے یارسول اللہ ! اپنا ہاتھ توڑ ڈالو میں نے عرض کیا اگر ٹوٹا ہواہاتھ درست ہوجائے تو فرمایا دوسرا توڑ دو میں نے عرض کیا کب تک ایسا کرتے رہیں فرمایا حتی کہ کوئی گناہ گار آکرتمہارا خاتمہ کردے یا ایسے ہی موت آجائے ۔ رواہ ابن عساکر