31350 (أيضا) عن أبي مجلز قال : قال رجل لابي موسى : أرأيت لو ضربت بسيفي أريد به وجه الله حتى أقتل ما منزلتي ؟ قال : الجنة ، قال حذيفة : استفهم الرجل ثم أفهمه كيف أفتيته ، قال : إنك لا تزال تأتينا بشئ قد دهمت ، قال : أضرب بسيفي أريد به وجه الله حتى أقتل ما منزلتي ؟ قال حذيفة : فو الله ليقومن أقوام بأسيافهم يضربون بها يريدون وجه الله ليكبنهم الله في النار على وجوههم ، وايم الله ؟ لا يقوم ثلاثمائة يحملون راية إلا علمت على ضلالة هم أم على هدى.
(ابن جرير).
31350 ۔۔۔ (ایضا) ابی مجلز (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ابوموسیٰ اشعری سے کہا آپ بتلائیں اگر میں اللہ کی خاطر لڑتے ہوئے شہید ہوجاؤں تو میرا ٹھکانا کہاں ہوگا تو فرمایا کہ جنت میں حذیفہ (رض) نے فرمایا اس آدمی سے پوچھیں پھر اس کو سمجھائیں کہ آپ نے کیا فتوی دیاتو فرمایا آپ ہمیشہ کوئی ایسی بات لاتے ہیں جس سے اشتباہ پیدا ہواجاتا ہے فرمایا میں دینی تل اور سے لڑتاہوں اللہ تعالیٰ کی رضاء حاصل کرنے کی خاطریہاں تک قتل کیا جاؤں تو میرا ٹھکانا کہاں ہوگا حذیفہ (رض) نے فرمایا کہ اللہ کی قسم کچھ لوگ اپنی تلوار میں لے کر نکلیں گے اس سے مارتے رہیں گے مقصد ان کا رضا الہی ہوگا اللہ تعالیٰ ان کو اوندھے منہ جہم میں ڈالیں گے اللہ کی قسم تین سو آدمی ایک چھنڈا اٹھا کر (ٕجہاد کے نام پر نکل پڑیں ) تو میں جان لوں گا یہ ہدایت پر ہیں یا گمراہی پر۔ رواہ ابن جریر